ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 68

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۸ جلد دوم ہوں وہ اس عذاب سے بچنے کی فکر میں ہوا جو انسان کو حسرت کے رنگ میں کھا جاتا ہے۔ ہمارے عزیزوں میں سے ایک کو قولنج ہوئی۔ آخر پیشاب بند ہو کر سیاہ رنگ کی ایک کئے ہوئی اور اس کے ساتھ ہی گردن لٹک گئی ۔ اس وقت کہا کہ اب معلوم ہوا کہ دنیا کچھ چیز نہیں ۔ یقیناً یا درکھو کہ دنیا کوئی چیز نہیں۔ کون کہہ سکتا ہے کہ ہم سب جو اس وقت یہاں موجود ہیں سال آئندہ میں بھی ضرور ہوں گے۔ بہت سے ہمارے دوست جو پچھلے سال موجود تھے آج نہیں ہیں۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ اگلے سال ہم نہ ہوں گے۔ اسی طرح اب کون کہہ سکتا ہے کہ ہم ضرور ہوں گے اور کس کو معلوم ہے کہ مرنے والوں کی فہرست میں کس کس کا نام ہے۔ پس بڑا ہی مورکھ ہے اور نادان ہے وہ شخص جو مر نے سے پہلے خدا سے صلح نہیں کرتا اور جھوٹی برادری کو نہیں چھوڑتا۔ انسان کو ہلاک کرنے والی چیزوں میں سے ایک بد صحبت بھی ہے۔ دیکھو ابو جہل خود تو بد محبت ہلاک ہو اگر اور بھی بہت سے لوگوں کو لے مرا جو اس کے پاس جا کر بیٹھا کرتے تھے۔ اُس کی صحبت اور مجلس میں بجز استہزا اور ہنسی ٹھٹھے کے اور کوئی ذکر ہی نہ تھا۔ یہی کہتے تھے إِنَّ هذا لَشَيْء يُرَادُ (ص: ۷) میاں یہ دوکانداری ہے۔ اب دیکھو اور بتلاؤ کہ وہ جس کو دوکاندار اور ٹھگ کہا جاتا تھا ساری دنیا میں اسی کا نو رہے یا کسی اور کا بھی۔ ابو جہل مر گیا اور اس پر لعنت کے سوا کچھ نہ رہا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بلند کو دیکھو کہ شب و روز بلکہ ہر وقت درود پڑھا جاتا ہے اور ۹۹ کروڑ مسلمان اس کے خادم موجود ہیں ۔ اگر اب ابو جہل پھر آتا تو آکر دیکھتا کہ جس کو اکیلا مکہ کی گلیوں میں پھرتا دیکھتا تھا اور جس کی ایذا دہی میں کوئی دقیقہ باقی نہ رکھتا تھا۔ اس کے ساتھ جب ۹۹ کروڑ انسانوں کے مجمع کو دیکھتا حیران رہ جاتا اور یہ نظارہ ہی اس کو ہلاک کر دیتا ۔ یہ ہے ثبوت آپ کی رسالت کی سچائی کا۔ اگر اللہ تعالیٰ ساتھ نہ ہوتا تو یہ کامیابی نہ ہوتی ۔ کس قدر کوششیں اور منصوبے آپ کی عداوت اور مخالفت کے لئے کئے مگر آخر نا کام اور نامراد ہونا پڑا۔ اس ابتدائی حالت میں جب چند آدمی آپ کے ساتھ تھے کون دیکھ سکتا تھا کہ یہ عظیم الشان انسان دنیا میں ہوگا اور ان مخالفوں کی سازشوں سے صحیح و سلامت بیچ کر