ملفوظات (جلد 2) — Page 68
ہوں وہ اس عذاب سے بچنے کی فِکر میں ہوا جو انسان کو حسرت کے رنگ میں کھا جاتا ہے۔ہمارے عزیزوں میں سے ایک کو قولنج ہوئی۔آخر پیشاب بند ہوکرسیاہ رنگ کی ایک قَے ہوئی اور اس کے ساتھ ہی گردن لٹک گئی۔اس وقت کہا کہ اب معلوم ہوا کہ دنیا کچھ چیز نہیں۔یقیناً یادرکھو کہ دنیا کوئی چیز نہیں۔کون کہہ سکتا ہے کہ ہم سب جو اس وقت یہاں موجود ہیں سالِ آئندہ میں بھی ضرور ہوں گے۔بہت سے ہمارے دوست جو پچھلے سال موجود تھے آج نہیں ہیں۔اُنہیں کیا معلوم تھا کہ اگلے سال ہم نہ ہوں گے۔اسی طرح اب کون کہہ سکتا ہے کہ ہم ضرورہوں گے اور کس کو معلوم ہے کہ مَرنے والوں کی فہرست میں کس کس کانام ہے۔پس بڑا ہی مُورکھ ہے اور نادان ہے وہ شخص جو مَرنے سے پہلے خدا سے صُلح نہیں کرتا اور جھوٹی برادری کونہیں چھوڑتا۔بَدصحبت انسان کو ہلاک کرنے والی چیزوں میں سے ایک بدصحبت بھی ہے۔دیکھو ابوجہل خود تو ہلاک ہوا مگر اور بھی بہت سے لوگوں کو لے مَرا جو اس کے پاس جاکر بیٹھا کرتے تھے۔اُس کی صحبت اور مجلس میں بجز استہزا اور ہنسی ٹھٹھے کے اور کوئی ذکر ہی نہ تھا۔یہی کہتے تھے اِنَّ هٰذَا لَشَيْءٌ يُّرَادُ ( صٓ : ۷ ) میاں یہ دوکانداری ہے۔اب دیکھواوربتلاؤ کہ وہ جس کو دوکاندار اورٹھگ کہاجاتا تھا ساری دنیا میں اسی کانُور ہے یا کسی اَور کابھی۔ابوجہل مَرگیا اور اس پر لعنت کے سواکچھ نہ رہا۔مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ بلند کو دیکھو کہ شب وروز بلکہ ہروقت درودپڑھا جاتا ہے اور ۹۹ کروڑ مسلمان اس کے خادم موجود ہیں۔اگر اب ابوجہل پھر آتا تو آکر دیکھتا کہ جس کو اکیلا مکہ کی گلیوں میں پھرتا دیکھتاتھا اور جس کی ایذادہی میں کوئی دقیقہ باقی نہ رکھتا تھا۔اس کے ساتھ جب ۹۹ کروڑ انسانوں کے مجمع کو دیکھتا حیران رہ جاتا اور یہ نظارہ ہی اس کو ہلاک کردیتا۔یہ ہے ثبوت آپؐکی رسالت کی سچائی کا۔اگر اللہ تعالیٰ ساتھ نہ ہوتا تو یہ کامیابی نہ ہوتی۔کس قدر کوششیں اور منصوبے آپؐکی عداوت اور مخالفت کے لئے کئے مگرآخر ناکام اور نامراد ہونا پڑا۔اس ابتدائی حالت میں جب چند آدمی آپؐکے ساتھ تھے کون دیکھ سکتا تھا کہ یہ عظیم الشان انسان دنیا میں ہوگا اور ان مخالفوں کی سازشوں سے صحیح و سلامت بچ کر