ملفوظات (جلد 2) — Page 62
اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ ( الصفّ :۷) یعنی میرے بعد ایک نبی آئے گا جس کی میں بشارت دیتا ہوں اور اس کا نام احمد ہو گا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ جو اللہ تعالیٰ کی حد سے زیادہ تعریف کرنے والا ہو۔اس لفظ سے صاف پایا جاتا ہے اور سچی بات بھی یہی ہے کہ کوئی اسی کی تعریف کرتا ہے جس سے کچھ لیتا ہے اور جس قدر زیادہ لیتا ہے اسی قدر زیادہ تعریف کرتا ہے۔اگر کسی کو ایک روپیہ دیا جاوے تو وہ اسی قدر تعریف کرے گا اور جس کو ہزار رو پیہ دیا جاوے وہ اسی انداز سے کرے گا۔غرض اس سے واضح طور پر پایا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے زیادہ خدا کا فضل پایا ہے۔دراصل اس نام میں ایک پیشگوئی ہے کہ یہ بہت ہی بڑے فضلوں کا وارث اور مالک ہو گا۔مُحَمَّد واَحْمد پھر آپؐکے مبارک ناموں میں ایک سِرّ یہ ہے کہ محمد اور احمد جو دو نام ہیں ان میں دو جدا جدا کمال ہیں۔محمدؐ کا نام جلال اور کبریائی کو چاہتا ہے جو نہایت درجہ تعریف کیا گیا ہے اور اس میں ایک معشوقانہ رنگ ہے۔کیونکہ معشوق کی تعریف کی جاتی ہے۔پس اس میں جلالی رنگ ہونا ضروری ہے۔مگر احمد کا نام اپنے اندر عاشقانہ رنگ رکھتا ہے کیونکہ تعریف کرنا عاشق کا کام ہے۔وہ اپنے محبوب و معشوق کی تعریف کرتا رہتا ہے۔اس لئے جیسے محمدؐ محبوبانہ شان میں جلال اور کبریائی کو چاہتا اسی طرح پر احمد عاشقانہ شان میں ہو کر غربت اور انکساری کو چاہتا ہے۔اس میں ایک سِرّ یہ تھا کہ آپ کی زندگی کی تقسیم دو حصوں پر کر دی گئی ایک تو مکی زندگی جو ۱۳ برس کے زمانہ کی ہے اور دوسری وہ زندگی ہے جو مدنی زندگی ہے اور وہ ۱۰ برس کی ہے۔مکہ کی زندگی میں اسم احمد کی تجلی تھی۔اس وقت آپ کے دن رات خدا تعالیٰ کے حضور گریہ وبُکا اور طلبِ استعانت اور دعا میں گزرتے تھے۔اگر کوئی شخص آپ کی اس زندگی کے بسر اوقات پر پوری اطلاع رکھتا ہو تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ جو تضرّع اور زاری آپ نے اس مکی زندگی میں کی ہے وہ کبھی کسی عاشق نے اپنے محبوب و معشوق کی تلاش میں کبھی نہیں کی اور نہ کر سکے گا۔پھر آپ کی تضرّع اپنے لیے نہ تھی بلکہ یہ تضرّع دنیا کی حالت کی پوری واقفیت کی وجہ سے تھی۔خدا پرستی کا نام ونشان چونکہ مٹ چکا تھا اور آپ کی روح اور خمیر میں اللہ تعالیٰ میں ایمان رکھ کر ایک لذّت اور سرور آچکا تھا