ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 50

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۰ جلد دوم کی حاجت نہیں ہے۔ کیونکہ وہ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے نیک اور پاک فطرت عطا فرمائی ہے اور جن کی استعداد میں عمدہ ہیں وہ بہت باتوں کے محتاج نہیں ہوتے اور ایک اشارہ ہی سے اصل مقصد اور مطلب کو سمجھ لیتے اور بات کو پالیتے ہیں ۔ ہاں جو لوگ اچھی فطرت اور عمدہ استعداد نہیں رکھتے اور اللہ تعالیٰ کی ذات اور قدرت پر اعتقاد نہیں ہے وہ تو اپنی ہی اغراض کی پیروی کرتے ہیں۔ وہ ایسی پستی کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں کہ اگر سب انبیاء علیہم السلام اکٹھے ہو کر ایک ہی وعظ کے منبر پر چڑھ کر نصیحت کریں انہیں تب بھی کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ یہی وہ سر ہے کہ ہر نبی اور مامور کے وقت دو فرقے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جس کا نام سعید رکھا ہے اور دوسرا وہ جو شقی کہلاتا ہے۔ دونوں فرقے وعظ و نصیحت کے لحاظ سے یکساں طور پر انبیاء علیہم السلام کے سامنے تھے اور اس پاک گروہ نے کبھی کسی سے بخل نہیں کیا۔ پورے طور پر حق نصیحت ادا کیا۔ جیسے سعیدوں کے لئے ویسے ہی اشقیا کے لئے ۔ مگر سعید قوم کان رکھتی تھی جس سے اس نے سنا۔ آنکھیں رکھتی تھی جس سے دیکھا۔ دل رکھتی تھی جس سے سمجھا۔ مگر اشقیا کا گروہ ایک ایسی قوم تھی جس کے کان نہ تھے جو سنتی ، اور نہ آنکھیں تھیں جس سے دیکھتی ، نہ دل تھے جس سے مجھتی ، اسی لئے وہ محروم رہی ۔ مکہ کی مٹی ایک ہی تھی جس سے ابو بکر رضی اللہ عنہ اور ابو جہل پیدا ہوئے۔ مکہ وہی مکہ ہے جہاں اب کروڑوں انسان ہر طبقہ اور درجہ کے دنیا کے ہر حصہ سے جمع ہوتے ہیں ۔ اسی سرزمین سے یہ دونوں انسان پیدا ہوئے ۔ جن میں سے اول الذکر اپنی سعادت اور رشد کی وجہ سے ہدایت پا کر صدیقوں کا کمال پا گیا اور دوسر اشرارت، جہالت، بے جا عداوت اور حق کی مخالفت میں شہرت یافتہ ہے۔ یا درکھو کمال دو ہی قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک رحمانی دوسرا شیطانی ۔ رحمانی کمال کے آدمی آسمان پر ایک شہرت اور عزت پاتے ہیں۔ اسی طرح شیطانی کمال کے آدمی شیاطین کی ذریت میں شہرت رکھتے ہیں۔ غرض ایک ہی جگہ دونوں تھے۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کچھ فرق نہیں کیا۔ جو کچھ حکم اللہ تعالیٰ نے دیا وہ سب کا سب یکساں طور پر سب کو پہنچا دیا مگر بد نصیب بد قسمت محروم رہ