ملفوظات (جلد 2) — Page 51
گئے اور سعید ہدایت پا کر کامل ہو گئے۔ابو جہل اور اس کے ساتھیوں نے بیسیوں نشان دیکھے۔انوار وبرکات الٰہیہ کو مشاہدہ کیا مگر ان کو کچھ بھی فائدہ نہ ہوا۔اب ڈرنے کا مقام ہے کہ وہ کیا چیز تھی جس نے ابو جہل کو محروم رکھا۔اس نے ایک عظیم الشان نبی کا زمانہ پایا جس کے لئے نبی ترستے گئے تھے۔حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آخر تک ہر ایک کی تمنا تھی مگر ا نہیں وہ زمانہ نہ ملا۔اس بد بخت نے وہ زمانہ پایا جو تمام زمانوں سے مبارک تھا مگر کچھ فائدہ نہ اٹھایا۔اس سے صاف ظاہر ہے اور خوف کا مقام ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کو دیکھنے والی آنکھ نہ ہو اس کی، سننے والا کان نہ ہو اور اس کے سمجھنے والا دل نہ ہو کوئی شخص کسی نبی اور مامور کی باتوں سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔میں پھر کہتا ہوں کہ اصل یہی ہے کہ سرشت میں دو حصے ہوتے ہیں۔ایک وہ لوگ ہیں جن کے قویٰ عمدہ ہیں اور وہ سعادت اور رشد کے پا جانے کے لئے استعدادوں سے یوں بھرے ہوئے ہوتے ہیں جیسے ایک عطر کا شیشہ لبریز ہوتا ہے۔تیل اور بتّی سب کچھ موجود ہو تا ہے۔صرف ایک ذرا سی آگ کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ ایک ادنیٰ سی تحریک اور رگڑ سے روشن ہو اُٹھتی ہے۔ابو بکر رضی اللہ عنہ وہ تھا جس کی فطرت میں سعادت کا تیل اور بتّی پہلے سے موجود تھے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تعلیم نے اس کو فی الفور متاثر کر کے روشن کر دیا۔اس نے آپ سے کوئی بحث نہیں کی۔کوئی نشان اور معجزہ نہ مانگا۔معاً سن کر صرف اتنا ہی پوچھا کہ کیا آپ نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں تو بول اٹھے کہ آپ گواہ رہیں میں سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں۔حسنِ ظنّ اور صبر یہ تجربہ کیا گیا ہے کہ سوال کرنے والے بہت کم ہدایت پاتے ہیں۔ہاں حسنِ ظن اور صبر سے کام لینے والے ہدایت سے پورے طور پر حصہ لیتے ہیں۔اس کا نمونہ ابو بکرؓ اور ابو جہل دونوں موجود ہیں۔ابو بکرؓ نے جھگڑا نہ کیا اور نشان نہ مانگے مگر اس کو وہ دیا گیا جو نشان مانگنے والوں کو نہ ملا۔اس نے نشان پر نشان دیکھے اور خود ایک عظیم الشان