ملفوظات (جلد 2) — Page 532
کے ٹوٹنے کے ساتھ ہی ساری عمارت گر جاتی ہے۔یہ بات اس زمانہ میں کہ وہ زندہ آسمان پر گیا ہے کوئی مان نہیں سکتا جبکہ دلائل قَطْعِیَّۃُ الدَّلَالَت کے ساتھ ثابت ہو گیا کہ وہ مر گیا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اب تو لاش کے دکھا دینے تک نوبت پہنچ گئی ہے۔کیونکہ(سرینگر) کشمیر میں اس کی قبر واقعاتِ صحیحہ کی بنا پر ثابت ہو گئی ہے۔ان ساری باتوں کے ہوتے ہوئے کون عقلمند یہ قبول کر سکتا ہے اور اِس کی موت کے ساتھ ہی صلیب، کفارہ، لعنت وغیرہ ساری باتیں علوم یقینیہ کی طرح غلط ثابت ہو جائیں گی۔اِن ساری باتوں کے علاوہ یہ مذہب ایسا کمزور ہے کہ جو پہلو اس نے اختیار کیا ہے وہی بودا۔ایک لعنت ہی کے پہلو کو دیکھو۔اگر اس پہلو کو اختیار نہ کرتے تو بہتر تھا کیونکہ جب یہ سچی بات ہے کہ لعنت کا تعلق دل سے ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ ملعون خدا کا اور خدا ملعون کا دشمن ہو جاوے اور خدا سے اس کا کوئی تعلق نہ رہے اور وہ خدا سے برگشتہ ہو جاوے تو پھر کیا باقی رہا۔ایک کتاب میں لکھا ہے کہ مسیح کو شیطان لیے پھرا۔اگر جسمانی طور پر شیطان لیے پھرا ہوتا تو مسیح تماشہ دکھا سکتے تھے۔اس کا کوئی معقول جواب تو نہیں دے سکے۔کسی یہودی کو شیطان کہہ دیا اور پھر تین مرتبہ شیطانی الہام ہوا۔غرض اب عیسائی مذہب کے خاتمہ کا وقت آگیا۔پس تم اپنی ہمت اور سر گرمی میں سُست نہ ہو۔بہت سے مسلمان کہلا کر دوسرے امور میں منہمک ہو جاتے ہیں۔مگر تم خدا سے ڈرو اور سچی تبدیلی اور تقویٰ، طہارت پیدا کرو۔اس راہ میں سست ہونا شیطان کو نقب لگا کر ایمان کا مال لے جانے کا موقع دینا ہے۔اس وقت وہی خدا جو آدم پر ظاہر ہوا تھا اور دوسرے نبیوں پر ظاہر ہوتا رہا ہے وہی مجھ پر ظاہر ہوا ہے۔اس وقت خدا نے موقع دیا ہے کہ تم اپنے معلومات کو بڑھا سکو۔اس لیے جو بات سمجھ میں نہ آئے اُس کوفو راً پوچھ لینا چاہیے۔جو سمجھنے سے پہلے کہتا ہے کہ سمجھ لیا اس کے دل پر ایک چھالا سا پڑ جاتا ہے۔آخر وہ نا سور ہو کر بہہ نکلتا ہے۔میں تھکتا نہیں ہوں، خواہ کوئی ایک سال تک پوچھتا رہے۔پس اس موقع کی قدر کرو۔میری باتوں کو سنو اور سمجھو اور ان پر عمل کرو۔پھر خادم دین بنو۔سچائی کو ظاہر کرو۔خدا سے محبت کرنا اور مخلوق سے ہمدردی کرنا یہ دونوں باتیں دین کی ہیں۔ان پر عمل کرو۔۱