ملفوظات (جلد 2) — Page 528
سے تمہیں کیا فائدہ ہوا۔تمہارے یقین اور معرفت میں قوت کیونکر پیدا ہو گی۔ذراذراسی بات پر شکوک اور شبہات پیداہوں گے اور آخر قدم کو ڈگمگاجانے کا خطرہ ہے۔دین کو ہر حال میں دُنیا پر مقدم کرنا چاہیے دیکھو! دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک تو وہ جو اسلام قبول کرکے دنیا کے کاروبا ر اور تجارتوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔شیطان ان کے سر پر سوار ہو جاتا ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ تجارت کرنی منع ہے۔نہیں صحابہؓ تجارتیں بھی کرتے تھے مگر وہ دین کو دنیاپر مقدم رکھتے تھے ، انہوں نے اسلام قبول کیاتو اسلام کے متعلق سچاعلم جو یقین سے اُن کے دلوں کو لبریز کر دے انہوں نے حاصل کیا یہی وجہ تھی کہ وہ کسی میدان میں شیطان کے حملے سے نہیں ڈگمگائے۔کوئی امر اُن کو سچائی کے اظہار سے نہیں روک سکا۔میر امطلب اس سے صرف یہ ہے کہ جو بالکل دنیا ہی کے بندے اور غلام ہوجاتے ہیں گویا دنیا کے پر ستار ہوجاتے ہیں ایسے لوگوں پر شیطان اپنا غلبہ او ر قابو پالیتا ہے۔دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جودین کی ترقی کی فکر میں ہو جاتے ہیں۔یہ وہ گروہ ہوتا ہے جو حزب اللہ کہلاتا ہے اور جو شیطان اور اس کے لشکر پر فتح پاتا ہے مال چونکہ تجارت سے بڑھتاہے اس لیے خدا تعالیٰ نے بھی طلب دین اور ترقی دین کی خواہش کو ایک تجارت ہی قرار دیا۔چنانچہ فرمایا ہے هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ(الصّف:۱۱) سب سے عمدہ تجارت دین کی ہے جو دردناک عذاب سے نجات دیتی ہے، پس میں بھی خدا تعالیٰ کے ان ہی الفاظ میںتمہیں یہ کہتاہو ں کہ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ(الصّف:۱۱)۔میںزیادہ اُمید ان پر کرتاہوں جو دینی ترقی اور شوق کو کم نہیں کرتے۔جواس شوق کو کم کرتے ہیں مجھے اندیشہ ہوتا ہے کہ شیطان ان پر قابو نہ پالے۔اس لیے کبھی سست نہیںہونا چاہیے۔ہر امر کو جو سمجھ میں نہ آئے پوچھناچاہیے تاکہ معرفت میں زیادت ہو۔پوچھناحرام نہیں بہ حیثیت انکار کے بھی پوچھنا چاہیے اور علمی ترقی کے لیے بھی۔جو علمی ترقی چاہتاہے اس کو چاہیے کہ قرآن شریف کو غور سے پڑھیں جہاں سمجھ