ملفوظات (جلد 2) — Page 529
میں نہ آئے دریافت کریں۔اگر بعض معارف سمجھ نہ سکے تو دوسروں سے دریافت کر کے فائدہ پہنچائے۔قرآن شریف ایک دینی سمندر ہے جس کی تہہ میں بڑے بڑے نایاب اور بے بہاگوہر موجود ہیں۔جب تم کسی عیسائی سے ملو گے تو دیکھوگے کہ اُن میںنقالوں اور ٹھٹھے والوںکی طرح دیانت مفقود نظر آئے گی۔یوںتو ان میںسے بعض ایسے ہیں جو یہ دعوے کرتے ہیں کہ ہم قرآن شریف کے ترجمہ سے واقف ہیں۔مگر انہوں نے مشق تو کی ہے لیکن ان میں روحانیت نہیں ہے اور اس کا ہمیں بارہا تجربہ ہو ا ہے جب ان کو بلایا گیا تو اُنہوں نے گریزکی ہے۔اگر واقعی ان میں روحانیت ہے اگر واقعی ان کی معرفت اور علم یقین کے درجہ تک پہنچاہواہے تو پھر کیاوجہ ہے کہ وہ گریز کرتے ہیں۔لاہور کے بشپ کافرار دیکھو! لاہور کے بشپ صاحب نے لاہور میں بڑے اہم مضامین پر لیکچر دئیے اور اپنی قرآن دانی اور حدیث دانی کے ثبوت کے لیے بڑی کوشش کی لیکن اُسے ہم نے دعوت کی تو باجود یکہ پایونیر نے بھی اس کو شرمندگی دلائی مگر وہ صرف یہ کہہ کر کہ ہمارادشمن ہے مقابلہ سے بھاگ گیا۔ہم کو افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بشپ صاحب تو مسیح کی تعلیم کا کامل نمونہ ہو نا چاہیے تھا اور اپنے دشمنو ں کو پیار کرو پر ان کا پورا عمل ہو تا اگر میں ان کا دشمن بھی ہو تا حا لانکہ میں سچ کہتا ہوں اور خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ نوع انسان کا سب سے بڑھ کر خیرخواہ اور دوست مَیں ہوں۔ہا ں یہ سچ ہے کہ میں ان تعلیمات کا دشمن ہوں جو انسان کی روحانی دشمن ہیں اور اس کی نجا ت کی دشمن ہیں۔غرض بشپ صا حب کو کئی بار اخباروں نے اس معا ملہ میںشرمندہ کیا مگر وہ سامنے نہ آئے۔عیسائیوں کی یہ حالت ہے کہ اگر کسی کو سادہ دیکھتے ہیں تو چھوٹا ہے تو بیٹا بنا کر اور بڑا ہے تو با پ بنا کر اندر دا خل ہو تے ہیں اور دیکھتے ہیںکہ اگر وہ حالات سے واقف ہے تو پھر اس سے بغض کرتے ہیں اس لیے کہ جب خدا سے تعلق توڑبیٹھتے ہیں تو مخلوق سے سچی ہمدردی کیونکر پیدا ہو مگر ہماری جماعت خاص ہے اس کو عام مسلمانوںکی طرح نہ سمجھیں۔دَآبَّةُ الْاَرْضِ یہ مسلمان دَآبَّةُ الْاَرْضِ ہیں اور اس لیے اس کے مخالف ہیں جو آسمان سے آتاہے۔جو زمینی بات کرتاہے وہ دَآبَّةُ الْاَرْضِ ہے۔خدا تعالیٰ نے ایسا ہی