ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 47

کے بعد اس کی روح میں دوسرے وقت اضطراب ہوتا ہے کہ کیوں چلا آیا۔ہمارے دوست آتے ہیں اور اپنی بعض مجبوریوں کی وجہ سے جلد چلے جاتے ہیں لیکن پیچھے ان کو حسرت ہوتی ہے کہ کیوں جلد واپس آئے۔(یہاں مولوی سید مہدی حسین صاحب نے کہا کہ میرا بھی یقیناً یہی حال ہو گا۔اگر میں نواب محسن الملک صاحب اور دوسرے دوستوں کو تار نہ دے چکا ہوتاتو میں اور ٹھیرتا۔ایڈیٹر) بہر حال میں نہیں چاہتا کہ آپ تخلف وعدہ کریں اور جب کہ ان کو اطلاع دے چکے ہیں تو ضرور جانا چاہیے لیکن میں امید کرتا ہوں کہ آپ پھر آئیں گے۔میں محض للہ اور نصیحتًا کہتا ہوں کہ آپ ایک دو ہفتہ تک کم از کم کسی دوسرے موقع پر یہاں رہ جائیں تو آپ کو بہت فائدہ ہو گا۔آپ وہ باتیں سنیں گے جن کے سنانے کے لئے خدا نے مجھے بھیجا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اس وقت کافر یہی رائے لگاتے تھے اِنَّ هٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ (صٓ:۷) میاں یہ تو دکانداری ہے۔مخالف جس کو صحبت نصیب نہیں ہوتی اس کو صحیح رائے نہیں ملتی اور دور سے رائے لگانا صحیح نہیں ہے کیونکہ جب تک وہ پاس نہیںآتا اور حالات پر اطلاع نہیں پاتا کیوں کر صحیح رائے حاصل کر سکتا ہے۔یہ سلسلہ منہاج نبوت پر قائم ہوا ہے میں دیکھتا ہوںکہ اللہ تعالیٰ نے جو بنیاد اس وقت ایک سلسلہ آسمانی کی رکھی ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔یہ سلسلہ بالکل منہاج نبوت پر قائم ہوا ہے۔اس کا پتہ اسی طرز پر لگ سکتا ہے جس طرح پر انبیاء علیہم السلام کے سلسلوں کی حقانیت معلوم ہوئی۔اور وہ راہ ہے صحبت میں صبر اور حسن ظن سے رہنے کی۔مخالفوں کو چونکہ اسباب نہیں ملتے اس لئے وہ صحیح رائے اور یقینی نتیجہ پر پہنچ نہیں سکتے۔انسان جب تک ان طرح طرح کے خیالات اور راؤں کے پردوں کو چیر کر نہیں نکل آتا اس کو سچی معرفت، فتوۃ اور مردانگی نہیں مل سکتی۔خوش قسمت وہی انسان ہے جو ایسے مردانِ خدا کے پاس رہ کر (جن کو اللہ تعالیٰ اپنے وقت پر بھیجتا ہے) اس غرض اور مقصد کوحاصل کرلے جس کے لئے وہ آتے ہیں۔ایسے لوگ اگرچہ تھوڑے ہوتے ہیں لیکن ہوتے ضرور ہیں۔وَ قَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ