ملفوظات (جلد 2) — Page 48
الشَّكُوْرُ (سبا:۱۴) اگرتھوڑے نہ ہوتے تو پھر بے قدری ہو جاتی۔یہی وجہ ہے کہ سونا چاندی لوہے اور ٹین کی طرح عام نہیں ہے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ مخالف بھی ہوں کیونکہ سنّت اللہ اسی طرح جاری ہے کہ ہر شخص جو خدا کی طرف قدم اٹھاتا ہے،اس کے لئے امتحان ضروری رکھا ہوا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ(العنکبوت:۳) امتحان خدا کی عادت ہے۔یہ خیال نہ کرو کہ عالم الغیب خدا کوامتحان کی کیا ضرورت ہے؟یہ اپنی سمجھ کی غلطی ہے اللہ تعالیٰ امتحان کا محتاج نہیں ہے۔انسان خود محتاج ہے تا کہ اس کو اپنے حالات کی اطلاع ہو اور اپنے ایمان کی حقیقت کھلے۔مخالفانہ رائے سن کر اگر مغلوب ہو جاوے تو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ قوت نہیں ہے۔جس قدر علوم وفنون دنیا میںہیں بدوں امتحان ان کو سمجھ نہیں سکتا۔خدا کا امتحان یہی ہے کہ انسان سمجھ جاوے کہ میری حالت کیسی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مامور من اللہ کے دشمن ضرور ہوتے ہیں جو ان کو تکلیفیں اور اذیتیں دیتے ہیں۔توہین کرتے ہیں۔ایسے وقت میں سعید الفطرت اپنی روشن ضمیری سے ان کی صداقت کو پا لیتے ہیں۔پس ماموروں کے مخالفوں کا وجود بھی اس لئے ضروری ہے۔جیسے پھولوں کے ساتھ کانٹے کا وجود ہے۔تریاق بھی ہے تو زہریں بھی ہیں۔کوئی ہم کو کسی نبی کے زمانہ کا پتہ دے جس کے مخالف نہ ہوئے ہوں اور جنہوں نے اس کو دکاندار، ٹھگ، جھوٹا، مفتری نہ کہا ہو۔موسیٰ علیہ السلام پر بھی افترا کر دیا۔یہاں تک کہ ایک پلید نے تو زنا کا اتہام لگا دیا اور ایک عورت کو پیش کر دیا۔غرض ان پر ہر قسم کے افترا کیے جاتے ہیں تا لوگ آزمائے جائیں۔اور یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ خدا کے لگائے ہوئے پودے ان نابکاروںکی پھونکوں سے معدوم کیے جاویں۔یہی ایک نشان اور تمیز ہوتی ہے ان کے خدا کی طرف سے ہونے کی، کہ مخالف کوشش کرتے ہیں کہ وہ نابود ہو جائیں اور وہ بڑھتے اور پھولتے ہیں۔ہاں جو خدا کی طرف سے نہ ہووہ آخر معدوم اور نیست و نابود ہو جاتا ہے۔لیکن جس کو خدا نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے وہ کسی کی کوشش سے نابود نہیں ہو سکتا۔وہ کاٹنا چاہتے ہیں اور یہ بڑھتا ہے۔اس سے صاف معلوم ہو سکتا ہے کہ خدا کا ہاتھ ہے جو اس کو تھامے ہوئے ہے۔