ملفوظات (جلد 2) — Page 521
دراز ہے۔آپؐکی رسالت مُردہ رسالت نہیں بلکہ اس کے ثمرات اور برکات تازہ بتازہ ہرزمانے میں پائے جاتے ہیں جو اس کی صداقت اور ثبوت کی ہر زمانہ میں دلیل ٹھہرتے ہیں۔چنانچہ اس وقت بھی خدا نے ان ثبوتوں اور برکات اور فیوض کو جاری کیا ہے اور مسیح موعود کو بھیج کر نبوتِ محمدیہ کا ثبوت آج بھی دیا ہے اور پھر اُس کی دعوت ایسی عام ہے کہ کل دنیا کے لیے ہے قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا( الاعراف : ۱۵۹)اور پھر فرمایا وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ (الانبیاء : ۱۰۸) کتاب دی تو ایسی کامل اور ایسی محکم اور یقینی کہ لَا رَيْبَ فِيْهِ (البقرۃ : ۳ ) اور فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ (البینۃ : ۴) اور اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ۔قَوْلٌ فَصْلٌ۔میزان۔مہیمن۔غرض ہر طرح سے کامل اور مکمل دین مسلمانوں کا ہے جس کے لیے اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَ رَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا( المائدۃ : ۴) کی مہر لگ چکی ہے۔پھر کس قدر افسوس ہے مسلمانوں پر کہ وہ ایسا کامل دین جو رضاء الٰہی کا موجب اور باعث ہے رکھ کر بھی بے نصیب ہیں اور اس دین کے برکات اور ثمرات سے حصہ نہیں لیتے بلکہ خدا تعالیٰ نے جو ایک سلسلہ ان برکات کو زندہ کرنے کے لیے قائم کیا تو اکثر انکار کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے اور لَسْتَ مُرْسَلًا اور لَسْتَ مُؤْمِنًا کی آوازیں بلند کرنے لگے۔یاد رکھو خدا تعالیٰ کی توحید کا اقرار محض ان برکات کو جذب نہیں کر سکتا جو اس اقرار اور اُس کے دوسرے لوازمات یعنی اعمال صالحہ سے پیدا ہوتے ہیں۔یہ سچ ہے کہ توحید اعلیٰ درجہ کی جز ہے جو ایک سچے مسلمان اور ہر خدا ترس انسان کو اختیار کرنی چاہیے مگر توحید کی تکمیل کے لیے ایک دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ محبت الٰہی ہے یعنی خدا سے محبت کرنا۔قرآن شریف کی تعلیم کا اصل مقصد اور مدعایہی ہے کہ خدا تعالیٰ جیسا وحدہٗ لا شریک ہے ایسا ہی محبت کی رو سے بھی اس کو وحدہٗ لا شریک یقین کیا جاوے اور کل انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کا اصل منشا ہمیشہ یہی رہا ہے چنانچہ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ جیسے ایک طرف توحید کی تعلیم دیتا ہے ساتھ ہی توحید کی تکمیلِ محبت کی ہدایت بھی کرتا ہے اور جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے یہ ایک ایسا پیارا اور پُر معنی جملہ ہے کہ اس کی