ملفوظات (جلد 2) — Page 520
سکھایا جاتا اور وہ اس کو سمجھ لیتے تو ہرگز ہرگز تباہ اور ہلاک نہ ہوتے۔اسی ایک کلمہ کے نہ ہونے کی وجہ سے اُن پر تباہی اور مصیبت آئی اور اُن کی روح مجذوم ہو کر ہلاک ہو گئی۔۱ ایسا ہی فرمایا قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ۔اَللّٰهُ الصَّمَدُ۔لَمْ يَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ يُوْلَدْ۔وَ لَمْ يَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ ( الاخلاص : ۲تا۵) یعنی کہہ دو کہ وہ خدا ایک ہے۔هُوَ خدا کا نام ہے۔وہ ایک ہے۔وہ بےنیاز ہے۔نہ کھانے پینے کی اس کو ضرورت نہ زمان یا مکان کی حاجت نہ کسی کا باپ نہ بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہمسراور بے تغیر ہے۔یہ چھوٹی سورت قرآن شریف کی ہے جو ایک سطر میں آجاتی ہے لیکن دیکھو کس خوبی اور عمدگی کے ساتھ ہر قسم کے شرک سے اﷲ تعالیٰ کی تَنْـزِیْہ کی گئی ہے۔حصر عقلی میں شرک کے جس قدر قسم ہو سکتے ہیں اُن سے اُس کو پاک بیان کیا ہے۔جو چیز آسمان اور زمین کے اندر ہے وہ ایک تغیر کے نیچے ہے مگر خدا تعالیٰ نہیں ہے۔اب یہ کیسی صاف اور ثابت شدہ صداقت ہے۔دماغ اسی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔نورِ قلب جس کی شریعت دل میں ہے اس پر شہادت دیتا ہے۔قانونِ قدرت اسی کا مؤید ومصدق ہے۔یہاں تک کہ ایک ایک پتہ اس پر گواہی دیتا ہے۔پس اس کو شناخت کرنا ہی عظیم الشان بات ہے۔خدا تعالیٰ نے جو قرآن شریف میں یہ چھوٹی سی سورت نازل کی یہ ایسی ہے کہ اگر توریت کے سارے دفتر کی بجائے اُس میں اسی قدر ہوتا تو یہود تباہ نہ ہوتے اور انجیل کے اتنے بڑے مجموعہ کو چھوڑ کر اگر یہی تعلیم اُن کو دی جاتی تو آج دنیا کا ایک بڑا حصہ ایک مُردہ پرست قوم نہ بن جاتا۔مگر یہ خدا کا فضل ہے جو اسلام کے ذریعہ مسلمانوں کو ملا اور اس فضل کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے۔جس پہلو سے دیکھو مسلمانوں کو بہت بڑے فخر اور ناز کا موقع ہے۔مسلمانوں کا خدا پتھر، درخت، حیوان، ستارہ، یا کوئی مُردہ انسان نہیں ہے بلکہ وہ قادر مطلق خدا ہے جس نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ اُن کے درمیان ہے پیدا کیا اور حیّ وقیوم ہے۔مسلمانوں کا رسول وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کی نبوت اور رسالت کا دامن قیامت تک