ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 509 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 509

مسیحی معجزات کی حقیقت کو اور بھی مشتبہ کر دیا ہے اور ساری رونق کو دور کر دیا ہے۔اسی لیے عمادالدین جیسے عیسائیوں کو ماننا پڑا ہے کہ تالاب والا قصہ الحاقی ہے لیکن انجیل کے ان نادان دوستوں نے اتنا خیال نہیں کیا کہ اس باب کو محض الحاقی کہہ دینے سے مسیحی معجزات کی گئی ہوئی رونق نہیں آسکتی بلکہ انجیل کو اور بھی مشتبہ قرار دینا ہے کیونکہ پھر اس بات کا کیا جواب ہے کہ جس انجیل میں ایک باب الحاقی ہو اور حصہ اُس کا الحاقی نہ ہو اور جبکہ نسب نامہ کو الحاقی کہنے والے بھی موجود ہیں۔پھر اس تالاب جیسے چشمے اور ملکوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔یورپ کے اکثر ممالک میں ایسے چشمے ہیں جہاں جا کر اکثر امراض کے مریض شفا پاتے ہیں۔کشمیر میں بھی بعض چشموں کا پانی ایسا ہی ہے جن میں گندھک کا پانی اور نمک اور اَور اس قسم کے اجزا ملے ہوئے ہوتے ہیں۔پس وہ معجزہ نما تالاب مسیح کے سارے معجزات پر پانی پھیرتا ہے۔خصوصاً ایسی حالت میں جبکہ مسیح کا اس تالاب پر جانا اور اس کی مٹی کا آنکھوں پر لگانا اور اپنے پاس رکھنا بھی بیان کیا جاتا ہے اور پھر عمادالدین اُسے الحاقی مانتا ہے لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ ایک حصہ الحاقی مان کر پھر آسمانی کہتے ہوئے اُسے شرم نہیں آتی۔مسیح کی لکھی ہوئی انجیل نہیں۔حواریوں کی زبان عبرانی نہیں۔تیسری مصیبت یہ ہے کہ الحاقی بھی ہے اور پھر آخر یہ کہ تعلیم اُدھوری اور ناقص اور نا معقول ہے اور اُسے پیش کیا جاتا ہے کہ نجات کا اصلی ذریعہ یہی ہے۔الوہیّت مسیح معجزات کا تو یہ حال ہے پیشگوئیوں کا یہ حال ہے کہ ایسی پیشگوئیاں ہر مدبّر شخص تو درکنار عام لوگ بھی کر سکتے ہیں کہ لڑائیاں ہوں گی۔قحط پڑیں گے۔مرغ بانگ دے گا۔ان پیشگوئیوں پر نظر کرو تو بے اختیار ہنسی آتی ہے۔ان کو یہودی خدائی کا ثبوت کب تسلیم کرسکتے تھے۔خدائی کے لیے تووہ جبروت اور جلال چاہیے جو خدا کے حسب حال ہے۔لیکن یسوع اپنی عاجزی اور ناتوانی میں ضرب المثل ہے۔یہاں تک کہ ہوائی پرندوں اور لومڑیوں سے بھی ادنیٰ درجہ پر اپنے آپ کو رکھتا ہے۔اب کوئی بتائے کہ کس بنا پر اس کی خدائی تسلیم کی جاوے۔کس کس بات