ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 504 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 504

اسے کہا کہ ہر طرح تمہیں نکاح کرنا ہو گا۔اب اس واقعہ کو مدّنظر رکھ کر دیکھو کہ کس قدر اعتراض واقع ہوتے ہیں۔اوّل۔جب عہد باندھاگیاتھاتوپھر خدا کی ماں اور نانی نے اپنے عہد کو کیوں توڑا ؟ دوم۔جبکہ عیسائیوں کے نزدیک کثرت ازدواج زناکاری ہے تو وہ اس کاکیا جواب دیتے ہیں کہ یوسف کی پہلی بیوی بھی تھی اور مریم دوسری بیوی تھی کیا وہ اپنے آپ یہ الزام اپنی مقدس کنواری پر قائم نہیں کرتے ؟ سوم۔جب کہ حمل ہو چکاتھاتو پھر حمل میں نکاح کیوں کیا گیا؟ یہ تین زبر دست اعتراض ہیں جو اس پر ہو تے ہیں۔اَورباتوں کو اگر چھوڑ دیا جاوے مثلاًیہ کہ جب فرشتہ نے آ کر مریم کو بشارت دی تھی کہ تیرے پیٹ میں خدا آتاہے تو اُسے چاہیے تھاکہ شور مچا دیتی اور دنیاکو آگاہ کر تی کہ خدا کااستقبال کرنے کو تیار ہو جائو وہ میرے پیٹ سے پیداہو گا۔پھر اس کو چھپایاکیو ں گیا۔ہم اس قسم کے اعتراضوں کو سرِدست چھوڑدیتے ہیں لیکن جو تین بڑے اعتراض اوپر کیے گئے ہیں اُن کا جواب عیسائیوں کے پاس حقیقت میں کچھ بھی نہیں ہے۔اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ مریم کو ہیکل میں پیٹ ہوگیاتھااور مریم نے یہ سمجھا کہ لوگوںکو اگر بتایاگیاکہ مجھے فرشتہ نے آکر بیٹا پیدا ہونے کی بشارت دی ہے تو لوگ ٹھٹھا کریںگے اورکہیں گے کہ اس کو بیاہ کے خواب آتے ہیں۔کوئی بدکار ٹھہرائے گا لیکن جب پیٹ چھپ نہ سکا اورچرچاہونے لگا تو آخر سب کو فکر پڑی۔اگر پہلے سے بتادیتی جب فرشتہ نے آکر کہاتھا تو شاید اس قدر شور نہ ہو تا لیکن اُنہوں نے یہی سمجھاکہ اس وقت اگر بتایاتویہی کہیں گے کہ خاوندمانگتی ہے کیونکہ یہ قاعدہ ہے کہ اگر کنواری لڑکی ذراسابھی کوئی ذکر کر بیٹھے تو لوگ اس کی نسبت یہی نتیجہ نکال لیتے ہیں۔پس وہ ڈرتی رہی اوریہی اس نے سوچاکہ خاموش رہوں لیکن چار پانچ مہینے کے بعد جب پیٹ بڑھااورپردہ نہ رہ سکا۔تو پھر رہانہ گیا تو ہیکل کے بزرگوں کو بخوبی معلوم ہو گیا کہ مریم حاملہ ہے اور انہیں فکر پیداہوئی اور جیسا کہ یہ دیکھاجاتاہے کہ اگر شریف خاندان کی کوئی لڑکی حاملہ ہو جاوے تو جھٹ پٹ اس کا نکاح کر