ملفوظات (جلد 2) — Page 505
دیتے ہیں تاکہ ناک نہ کٹ جاوے۔ان بزرگو ں کو بھی یہی فکر پیدا ہوئی کیو نکہ وہ اصل واقعہ سے بالکل بے خبر اور نا آشناتھے۔اس لیے اُنہوں نے ان باتوں کی ذرابھی پروا نہ کی کہ اس نکاح سے عہد شکنی کاارتکاب ہو گا یادوسری شادی کی وجہ سے بقول یسوع مسیح یہ زناکاری ٹھہرے گی یا حاملہ کانکاح کرنا جائز نہیں ہے۔عزیزوں نے بھی سمجھاکہ اگر اب خاموشی کی گئی اور نکاح نہ کیا گیا تو ناک کٹ جاوے گی اس لیے یہ نکاح کردیاگیا جس پر اس قدر اعتراض ہو تے ہیں۔اناجیل کی مبالغہ آرائی مگر غو ر طلب سوال یہ ہے کہ ان انجیل نویسوں نے اس واقعہ پر کیوں دیانت داری کے ساتھ روشنی نہیں ڈالی یہ دیانت داری کے خلاف ہے۔ایک جگہ ایک انجیل نویس لکھتاہے یسوع نے اس قدر کا م کیے کہ اگر وہ لکھے جاتے تو دنیا میں نہ سماسکتے۔مگر اس عقلمند کی سمجھ پر افسوس آتاہے کہ اس ایک ہی جملہ نے انجیل کی ساری حقیقت کھول دی کہ اس میں جو کچھ لکھا گیا ہے ایسی ہی مبالغہ آمیز باتیں ہیں کیونکہ یہ کیسی ہنسی کی بات ہے کہ جو کام تین برس میں ہوسکتے ہیں وہ دنیامیں نہیں سماسکتے۔جب محدود زمانہ میں سماگئے توپھر مکانی طور پر کیوں محدود نہیں ہو سکتے؟ اس قسم کے ردّی مواد سے بھراہواعیسائی مذہب کاپھوڑاہے۔پھوڑوںکے پھوٹنے کا ایک وقت مقررہوتاہے۔نصرانی مذہب بھی ایک پھوڑاہے جو اندر پیپ سے بھراہواہے اس لیے باہر سے چمکتا ہے۔مگر اب وقت آگیاہے کہ یہ ٹوٹ جاوے اور اس کی اندرونی غلاظت ظاہر ہو جاوے۔انگریزی گورنمنٹ کے عہدمیں مذہبی آزادی ابھی سکھوں کا زمانہ گزرا ہے جس میں شائستگی بالکل جاتی رہی تھی۔عالم باعمل نہ رہے تھے۔اگر کسی کو شبہات پڑتے اور وہ سوال کرتا تواس کو واجب القتل ہونے کا فتویٰ دیا جاتا۔یہ زمانہ ایسا ہی ہو گیا تھا۔مگر اب خدا تعالیٰ نے فضل کیا کہ ایک مہذب اورشائستہ علم دوست گورنمنٹ کو ہم پر حکمران کیا جس نے عدل اور انصاف کے ساتھ حکومت کرنی چاہی ہے اور مذہبی آزادی کی برکت سے ساری قوموں کو مستفید کیا۔اب وہ وقت آگیا ہے کہ مذہب کے متعلق سوال کرنے والوں سے کوئی