ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 45

وہ زمانہ اقبال اور عروج کا رہا۔اس میں سر یہ تھا۔ع خدا داری چہ غم داری مسلمانوں کی فتوحات اور کامیابیوں کی کلید بھی ایمان تھا۔صلاح الدین کے مقابلہ پر کس قدر ہجوم ہوا تھالیکن آخر اس پر کوئی قابو نہ پا سکا۔اس کی نیت اسلام کی خدمت تھی۔غرض ایک مدت تک ایسا ہی رہا۔جب بادشاہوں نے فسق وفجور اختیار کیا پھر اللہ تعالیٰ کا غضب ٹوٹ پڑا اور رفتہ رفتہ ایسا زوال آیا جس کواب تم دیکھ رہے ہو۔اب اس مرض کی جو تشخیص کی جاتی ہے ہم اس کے مخالف ہیں۔ہمارے نزدیک اس تشخیص پر جو علاج کیا جائے گا وہ زیادہ خطر ناک اور مضر ثابت ہو گا۔جب تک مسلمانوں کا رجوع قرآن شریف کی طرف نہ ہو گا ان میں وہ ایمان پیدا نہ ہو گا یہ تندرست نہ ہوں گے۔عزّت اور عروج اسی راہ سے آئے گا جس راہ سے پہلے آیا۔دین کو دنیا پر مقدم رکھیں میرا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مسلمان سُست ہو جائیں۔اسلام کسی کو سُست نہیں بناتا۔اپنی تجارتوںاور ملازمتوں میں بھی مصروف ہوں۔مگر میں یہ نہیں پسند کرتا کہ خدا کے لئے کوئی وقت بھی ان کا خالی نہ ہو۔ہاں تجارت کے وقت پر تجارت کریں اور اللہ تعالیٰ کے خوف و خشیت کو اس وقت بھی مدّ ِنظر رکھیں تاکہ وہ تجارت بھی ان کی عبادت کا رنگ اختیار کرلے۔نمازوں کے وقت پر نمازوں کو نہ چھوڑیں۔ہر معاملہ میں کوئی ہو دین کو مقدم کریں۔دنیا مقصود بالذّات نہ ہو۔اصل مقصود دین ہو۔پھر دنیا کے کام بھی دین ہی کے ہوں گے۔صحابہ کرامؓ کو دیکھو کہ انہوں نے مشکل سے مشکل وقت میں بھی خدا کو نہیں چھوڑا۔لڑائی اور تلوار کا وقت ایسا خطر ناک ہوتا ہے کہ محض اس کے تصور سے ہی انسان گھبرا اٹھتا ہے۔وہ وقت جب کہ جوش اور غضب کا وقت ہوتا ہے ایسی حالت میں بھی وہ خدا سے غافل نہیں ہوئے۔نمازوں کو نہیں چھوڑا۔دعا ؤں سے کام لیا۔اب یہ بد قسمتی ہے کہ یوں تو ہر طرح سے زور لگاتے ہیں۔بڑی بڑی تقریریں کرتے ہیں۔جلسے کرتے ہیں کہ مسلمان ترقی کریں مگر خدا سے ایسے غافل ہوئے ہیں کہ بھول کر بھی اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔پھر ایسی حالت میںکیا امید ہو سکتی ہے کہ ان کی