ملفوظات (جلد 2) — Page 501
اپنی تعلیم کی خوبی اور تکمیل کے اور کیا بلحاظ اپنے کامل نمونہ اور دعائوںکی قبولیت کے، غرض ہرطرح اور ہرپہلو میںچمکتے ہوئے شواہد اور آیات اپنے ساتھ رکھتے ہیں کہ جن کو دیکھ کر ایک غبی سے غبی انسان بھی بشرطیکہ اُس کے دل میںبیجاضد اور عداوت نہ ہو صاف طور پر مان لیتا ہے کہ آپؐ تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ کاکامل نمونہ اور کامل انسا ن ہیں لیکن جب جب کوئی مسیح کے حا لات پر نظر کرتاہے تو ایک دانش مند اور منصف مزاج انسان کو تأمل ہوتاہے کہ ایسے انسان کو جو مہذب اورشریفانہ باتوں کا جواب گالی سے دیتاہےنیک اُستاد کہنے والوںکوسانپ اور سانپ کے بچے اور حرام کار کہتاہے خدا تو ایک طرف نبی ہی تسلیم کرے۔مسیح پر ایمان لانے میںیہودکی مشکلات ان ساری باتوںکے علاوہ یہود کو ایک اور عجیب مشکل درپیش تھی جن میں بظاہر وہ حق پرہوسکتے ہیں اور وہ یہ تھی کہ ملاکی نبی کی کتاب میں وہ پڑھ چکے تھے کہ مسیحؑ کے آنے سے پہلے ایلیا کاآسمان سے اُترناضروری ہے۔جب تک وہ نہ آوے مسیح نہ آوے گا۔اب اُن کے سامنے کسی کے دوبارہ آنے کی نظیر موجود نہیں اورایلیا کاآسمان سے اُترنا وہ اپنی کتابوں میں پڑھتے آئے تھے۔اُنہوںنے ایلیا کو آتے دیکھانہیں۔مسیح نے آنے کادعویٰ کیا اُسے تسلیم کریں تو کیوں کر؟ مسیح نے جو فیصلہ ایلیا کے آنے کا کیاکہ وہ یوحنا کے رنگ میںآگیا۔یہودیوںکے پاس بظاہر اس کے انکار کے لیے وجوہات تھیں کیونکہ اُن کو ایلیا کا وعدہ دیاگیا تھا نہ مثیل ایلیا کا۔اور اس سے پہلے کوئی واقعہ اس قسم کا ہوا نہ تھا اس لیے اُن کو مسیح کاانکار کرناپڑا۔ایک یہودی کی کتاب میرے پاس موجود ہے۔اُس نے بڑے زور سے اس امر پربحث کی ہے اور پھر اپیل کرتاہے کہ بتائو ایسی صورت میںہم کیا کریں۔بلکہ اُس نے یہاںتک لکھاہے کہ اگر خدا تعالیٰ ہمیں اس کے متعلق باز پرس کرے گا تو ہم ملا کی نبی کی کتاب کھول کر اُس کے سامنے رکھ دیںگے۔غرض ایک مشکل تو یہودیوں کو یہ پیش آئی پھر دوسری مشکل یہ پیش آئی کہ مسیح مصلوب ہوگیا اور صلیب کی لعنت نے ان کے کذب پر ایک اور رنگ چڑھادیا۔کیونکہ وہ توریت میںپڑھ چکے تھے کہ