ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 502 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 502

جھوٹا نبی صلیب پر لٹکایاجاتاہے اوروہ ملعون ہوتاہے۔پس اُنہوں نے یہ خیال کیا کہ ایک طرف تو ایلیا آیا نہیں اور یہ مسیح ہونے کامدعی ہے اور ایلیاکے قصے پر جو فیصلہ دیتاہےوہ بظاہر ملاکی نبی کی کتاب کے مخالف ہے اس لیے کاذب کی مخالفت اور خود مسیح کے طرزعمل اور سلوک نے یہودیو ں کو اور بھی برافروختہ کر دیا تھا جب وہ اِن کو حرام کار اور سانپ اور سانپ کے بچے کہہ کر پکارتے تھے۔پس اُنہوں نے صلیب کے لیے کوشش کی اور جب صلیب پر چڑھادیا تو ان کے پہلے خیال کو اوربھی مضبوطی ہوگئی۔کیونکہ اُنہوں نے دیکھا کہ یہ صلیب پرلٹکایا جاکر لعنتی ہو گیا ہے اس لیے سچا نہیں ہے۔اب انہوں نے یہ یقین کر لیا کہ جب یہ خود لعنتی ہو گیا تو دوسروںکا شفیع کیسے ہو سکتاہے۔صلیب نے اس کے کاذب ہو نے پر مہر لگا دی۔دو گواہوںکے ساتھ انسان پھانسی پا سکتا ہے۔اُنہوںنے اس وقت بھی کہا کہ اگر تو سچا ہے تو اُتر آ مگر وہ اُتر نہ سکا۔اس امر نے اُن کو اور بد ظن کر دیا۔۱ لعنت کامفہوم عیسائی چونکہ لعنت کے مفہوم اور منشا سے ناواقف تھے اس لیے مسیح کو ملعون قرار دیتے وقت اُنہوں نے کچھ نہیں سوچاکہ اُس کاانجام آخر کیا ہو گا؟ علاوہ بریں چونکہ عربی سے اُنہیں بغض تھا اس لیے عبرانی میں بھی پوری مہارت حاصل نہ کر سکے۔یہ دونوںزبانیں ایک ہی در خت کی شاخیں ہیں اور عربی جاننے والے کے لیے عبرانی کاپڑھنا سہل تر ہے مگر عیسائی بوجہ بغض عبرانی لغت سے بھی فائدہ نہ اُٹھاسکے۔لعنت کامفہوم یہ ہے کہ کوئی خدا تعالیٰ سے سخت بیزار ہو جاوے اور خدا تعالیٰ اس سے بیزار ہو جاوے۔عیسائیوںکے اپنے مطبع کی چھپی ہوئی لغت کی کتابیں جو بیروت سے آئی ہیں ان میں بھی لعنت کے یہی معنے لکھے ہو ئے ہیں اور لعین شیطان کو کہتے ہیں۔مجھے ان لوگوںکی سمجھ پر سخت افسوس آتاہے کہ اُنہو ں نے اپنے مطلب کی خاطر ایک عظیم الشان نبی کی سخت بے حُرمتی کی ہے اور اس کو لعین ٹھہرایاہے اور انہوں نے اس پرکچھ بھی توجہ نہیں کی کہ لعنت کاتعلق دل سے ہوتاہے۔جب تک دل خدا سے بر گشتہ نہ ہولے ملعون نہیں ہو سکتا۔اب کسی عیسائی سے پوچھو کہ کیا عربی اور عبرانی لغت میں