ملفوظات (جلد 2) — Page 499
سزا پاتی ہیں۔خدا تعالیٰ نے تویہاں تک بھی فرما دیا ہے کہ جو لوگ قرآن سننے کے لئے آتے ہیں ان کو امن کی جگہ تک پہنچا دیا جاوے خواہ وہ مخالف اور منکر ہی ہوں اس لئے کہ اسلام میں جبر اور اکراہ نہیں جیسے فرمایا لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ ( البقرۃ:۲۵۷) لیکن اگر کوئی قتل کرے گا یا قتل کے منصوبے کرے گا اور شرارتیں اور ایذا رسانی کی سعی کرتا ہے تو ضرور ہے کہ وہ سزا پاوے۔قاعدہ کی بات ہے کہ مجرمانہ حرکات پر ہر ایک پکڑا جاتا ہے پس مکہ والے بھی اپنی شرارتوں اور مجرمانہ حرکات کے باعث اس قابل تھے کہ ان کو سخت سزائیں دی جاتیں اور ان کے وجود سے اس ارض مقدس اور اس کے گرد و نواح کو صاف کر دیا جاتا مگر یہ رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ (الانبیآء:۱۰۸) اور اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ(القلم:۵) کا مصداق اپنے واجب القتل دشمنو ں کو بھی پوری قوت اور مقدرت کے ہوتے ہوئے کہتا ہے لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ(یوسف:۹۳)۔اناجیل کا یسوع اب پادری ہمیں بتائیں کہ مسیح کے اس خلق کو ہم کہاں ڈھونڈیں ؟ ان کی زندگی میں آپ کا نمونہ کہاں سے لائیں؟ جب کہ وہ ان کے عقیدے کے موافق ماریں ہی کھاتا رہا اور جس کو سر رکھنے کی جگہ بھی نہ ملی۔(اگرچہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے ایک نبی اور مامور کی نسبت یہ گمان کریں کہ وہ ایسا ذلیل اور مفلوک الحال تھا) انسان کا سب سے بڑا نشان اس کا خلق ہے لیکن ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دینے کی تعلیم دینے والے معلم کی عملی حالت میں اس خلق کا ہمیں کوئی پتہ نہیں لگتا۔دوسروں کو کہتا ہے کہ گالی نہ دو مگر یہودیوں کے مقدس فریسیوں اور فقیہوں کو حرامکار، سانپ اور سانپ کے بچے آپ ہی کہتا ہے۔یہودیوں میں بالمقابل اخلاق پائے جاتے ہیں وہ اسے نیک استاد کہہ کر پکارتے ہیں اور یہ ان کو حرام کار کہتے ہیں اور کتوں اور سؤروں سے تشبیہ دیتے ہیں۔باوجودیکہ وہ فقیہ اور فریسی نرم نرم الفاظ میں کچھ پوچھتے ہیں۔اور وہ دنیوی وجاہت کے لحاظ سے بھی رومی گورنمنٹ میں کرسی نشین تھے۔ان کے مقابلہ میں ان کے سوالوں کا جواب تو بہت ہی نرمی سے دینا چاہیے تھا اور خوب ان کو سمجھانا چاہیے تھا حالانکہ یہ بجائے سمجھانے کے گالی پر گالی دیتے چلے جاتے ہیں کیا اسی کا نام