ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 498 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 498

جماعت پر کی تھیںآپؐکو حق پہنچتا تھا کہ قتل عام کر کے مکہ والوں کو تباہ کر دیتے اور اس قتل میں کوئی مخالف بھی آپؐپر اعتراض نہیں کر سکتا تھا کیونکہ ان تکالیف کے لئے وہ واجب القتل ہو چکے تھے اس لئے اگر آپ میں قوت غضبی ہوتی تو وہ بڑا عجیب موقع انتقام کا تھا کہ وہ سب گرفتار ہو چکے تھے مگر آپ نے کیا کیا ؟ آپ نے ان سب کو چھوڑ دیا اور کہا لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ(یوسف:۹۳)۔یہ چھوٹی سی بات نہیں ہے مکہ کے مصائب و تکالیف کا نظارہ کو دیکھو کہ قوت و طاقت کے ہوتے ہوئے کس طرح پر اپنے جانستان دشمنوں کو معاف کیا جاتا ہے یہ ہے نمونہ آپ کے اخلاق فاضلہ کا جس کی نظیر دنیا میں پائی نہیں جاتی۔محض انکارِ رسل کی سزا اس دنیا میں نہیں ملتی یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ مکہ والوں نے آپ کی نری تکذیب نہیں کی تھی۔نری تکذیب سے جو محض سادگی کی بنا پر ہوتی ہے اس دنیا میں اللہ تعالیٰ سزائیں نہیں دیتا ہے لیکن جب مکذّب شرافت اور انسانیت کے حدود سے نکل کر بے حیائی اور دریدہ دہنی سے اعتراض کرتا ہے اور اعتراضوں ہی کی حد تک نہیں رہتا بلکہ ہر قسم کی ایذا دہی اور تکلیف رسانی کے منصوبے کرتا ہے اور پھر اس کو حدتک پہنچاتا ہے توا للہ تعالیٰ کی غیرت جوش میں آتی ہے اور اپنے مامور و مرسل کے لئے وہ ان ظالموں کو ہلاک کردیتا ہے جیسے نوح کی قوم کو ہلاک کیا یا لوط کی قوم کو۔اس قسم کے عذاب ہمیشہ ان شرارتوں اور مظالم کی وجہ سے آتے ہیں جو خدا کے ماموروں اور ان کی جماعت پر کئے جاتے ہیں ورنہ نری تکذیب کی سزا اس عالم میں نہیں دی جاتی اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے اور اس نے ایک او ر عالم عذاب کے لئے رکھاہے۔عذاب جو آتے ہیں وہ تکذیب کو ایذا کے درجے تک پہنچانے سے آتے ہیں اور تکذیب کو استہزا اور ٹھٹھے کے رنگ میں کر دینے سے آتے ہیں اگر نرمی اور شرافت سے یہ کہا جاوے کہ میں نے اس معاملہ کو سمجھا نہیں اس لئے مجھے اس کے ماننے میں تأمل ہے تو یہ انکار عذاب کو کھینچ لانے والا نہیں ہے کیونکہ یہ تو صرف سادگی اور کمی علم کی وجہ ہے میں سچ کہتا ہوں کہ اگر نوح کی قوم کا اعتراض شریفانہ رنگ میں ہوتا توا للہ تعالیٰ نہ پکڑتا ساری قومیں اپنی کرتوتوں کی پاداش میں