ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 492 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 492

دل میں ایک اضطراب اور قلق پیدا کرتا ہے جو بجائے خود ایک خطرناک جہنم ہے لیکن جو شخص خدا کا خوف کھاتا ہے تو وہ بدیوں سے پرہیز کرکے اس عذاب اور درد سے تو دمِ نقد بچ جاتا ہے جو شہوات اور جذباتِ نفسانی کی غلامی اور اسیری سے پیدا ہوتا ہے اور وہ وفاداری اور خدا کی طرف جھکنے میں ترقی کرتا ہے جس سے ایک لذّت اور سرور اُسے دیا جاتا ہے اور یوں بہشتی زندگی اِسی دنیا سے اُس کے لیے شروع ہو جاتی ہے اور اسی طرح پر اس کے خلاف کرنے سے جہنمی زندگی شروع ہو جاتی ہے جیساکہ میں نے پہلے بیان کر دیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر دلیل اس وقت میرا صرف یہ مطلب ہے کہ میں اس دوسری دلیل کی طرف تمہیں متوجہ کروں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر خدا تعالیٰ نے دی ہے یعنی یہ کہ آپؐجس کام کے لیے آئے تھے اس میں پورے کامیاب ہو گئے۔میں نے بتایا ہے کہ جب آپؐتشریف لائے تو آپؐ نے ہزار ہا مریضوں کو مرض کے آخری درجہ میں پایا۔جو اُن کی موت تک پہنچ گیا تھا بلکہ حقیقت میں وہ مَر ہی چکے تھے جیسا کہ اس وقت کی تاریخ کے پتہ سے معلوم ہوتا ہے۔پھر انصافاً کوئی سوچے کہ اپنے خدمت گار کے عیب دور نہیں کر سکتے تو جو شخص ایک بگڑی ہوئی قوم کی ایسی اصلاح کر دے کہ گویا وہ عیب اُس میں تھے ہی نہیں تو اس سے بڑھ کر اس کی صداقت کی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے؟ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسلمانوں نے اس طرف توجہ نہیں کی ورنہ یہ ایسے روشن دلائل ہیں کہ دوسرے نبیوں میں اُس کے نظائر بہت ہی کم ملیں گے مثلاً جب ہم آپؐکے بالمقابل حضرت مسیحؑ کو دیکھتے ہیں تو کس قدر افسوس ہوتا ہے کہ وہ چند حواریوں کی بھی کامل اصلاح نہ کر سکے اور ہمیشہ اُن کو سست اعتقاد کہتے رہے۔یہاں تک کہ بعض کو شیطان بھی کہا۔وہ ایسے لالچی تھے کہ یہودا اسکریوطی جو مسیح کا خزانچی تھا بسا اوقات اس تھیلی میں سے جو اُس کے پاس رہا کرتی تھی کبھی کبھی چُرا بھی لیا کرتا تھا۔آخر اسی لالچ نے اُسے مجبور کیا کہ وہ تیس درہم لے کر اپنے اُستاد اور مُرشد کو گرفتار کرا دے۔