ملفوظات (جلد 2) — Page 491
قرآن شریف کے احسانات پس یاد رکھنے چاہیے کہ قرآن شریف نے پہلی کتابوں اور نبیوں پر احسان کیا ہے۔جو اِن کی تعلیموں کو جو قصّہ کے رنگ میں تھیں علمی رنگ دے دیا ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ کوئی شخص ان قصوں اور کہانیوں سے نجات نہیں پاسکتا جب تک وہ قرآن شریف کو نہ پڑھے کیونکہ قرآن شریف ہی کی یہ شان ہے کہ وہ اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ وَّ مَا هُوَ بِالْهَزْلِ (الطارق : ۱۴،۱۵)ہے۔وہ میزان، مہیمن، نور اور شِفا اور رحمت ہے۔جو لوگ قرآن شریف کو پڑھتے اور اُسے قصہ سمجھتے ہیں اِنھوں نے قرآن شریف کو نہیں پڑھا بلکہ اس کی بے حرمتی کی ہے۔ہمارے مخالف کیوں ہماری مخالفت میں اس قدر تیز ہوئے ہیں؟ صرف اسی لیے کہ ہم قرآن شریف کو جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ سراسر نور، حکمت اور معرفت ہے دکھا نا چاہتے ہیں اور وہ کوشش کرتے ہیں کہ قرآن شریف کو ایک معمولی قصے سے بڑھ کر وقعت نہ دیں ہم اس کو گوارا نہیں کر سکتے۔خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہم پر کھول دیا ہے کہ قرآن شریف ایک زندہ اور روشن کتاب ہے۔اس لیے ہم ان کی مخالفت کی کیوں پروا کریں۔غرض میں بار باراس امر کی طرف ان لوگوں کو جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہیں نصیحت کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کو کشفِ حقائق کے لیے قائم کیا ہے کیونکہ بدوں اس کے عملی زندگی میں کوئی روشنی اور نور پیدا نہیں ہوسکتا۔اور میں چاہتا ہوں کہ عملی سچائی کے ذریعہ اسلام کی خُوبی دنیا پر ظاہر ہو جیسا کہ خدا نے مجھے اس کام کے لیے مامور کیا ہے۔اس لیے قرآن شریف کو کثرت سے پڑھو مگر نرا قصہ سمجھ کر نہیں بلکہ ایک فلسفہ سمجھ کر۔بہشت اور دوزخ کی حقیقت اب میں پھر اصل مطلب کی طرف رجُوع کر کے کہتا ہوں کہ قرآن شریف نے بہشت اور دوزخ کی جو حقیقت بیان کی ہے کسی دوسری کتاب نے بیان نہیں کی۔اس نے صاف طور پر ظاہر کر دیا ہے کہ اسی دُنیا سے یہ سلسلہ جاری ہوتا ہے چنانچہ فرمایا وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ (الرحـمٰن : ۴۷) یعنی جو شخص خدا تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرا۔اس کے واسطے دو بہشت ہیں۔یعنی ایک بہشت تو اسی دنیا میں مل جاتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کا خوف اُس کو برائیوں سے روکتا ہے اور بدیوں کی طرف دوڑنا