ملفوظات (جلد 2) — Page 490
ہم اس وقت اس سوال کو سامنے لانے کی ضرورت نہیں سمجھتے کہ عیسائیوں کے انجیلی عقیدے اور بیان کے موافق وہ بہشت میں گئے یا ہاویہ میں بلکہ صرف یہ دکھانا ہے کہ بہشت کی حقیقت اُنہوں نے کچھ بیان نہیں کی۔ہاں یوں تو عیسائیوں نے اپنے بہشت کی مساحت بھی کی ہوئی ہے۔بر خلاف اس کے قرآن شریف کسی تعلیم کو قصے کے رنگ میں پیش نہیں کرتا بلکہ وہ ہمیشہ ایک علمی صورت میں اُسے پیش کرتا ہے مثلاً اسی بہشت و دوزخ کے متعلق قرآن شریف فرماتا ہے مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى (بنی اسراءیل : ۷۳) یعنی جو اس دنیا میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔کیا مطلب کہ خدا تعالیٰ اور دوسرے عالم کے لذّات کے دیکھنے کے لیے اسی جہان میں حواس اور آنکھیں ملتی ہیں۔جس کو اس جہان میں نہیں ملیں اس کو وہاں بھی نہیں ملیں گے۔اب یہ امر انسان کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ انسان کا فرض ہے کہ وہ اِن حواس اور آنکھوں کے حاصل کرنے کے واسطے اسی عالم میں کوشش اور سعی کرے تاکہ دوسرے عالم میں بینا اُٹھے۔ایسا ہی عذاب کی حقیقت اور فلسفہ بیان کرتے ہوئے قرآن شریف فرماتا ہے نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِيْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـِٕدَةِ (الھمزۃ : ۷،۸) یعنی اﷲ تعالیٰ کا عذاب ایک آگ ہے جس کو وہ بھڑکاتا ہے اور انسان کے دل ہی پر اس کا شعلہ بھڑکتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ عذابِ الٰہی اور جہنّم کی اصل جڑ انسان کا اپنا ہی دل ہے اور دل کے ناپاک خیالات اور گندے ارادے اور عزم اس جہنّم کا ایندھن ہیں۔اور پھر بہشت کے انعامات کے متعلق نیک لوگوں کی تعریف میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے يُفَجِّرُوْنَهَا۠ تَفْجِيْرًا(الدّھر : ۷) یعنی اسی جگہ نہریں نکال رہے ہیں۔اور پھر دوسری جگہ مومنوں اور اعمالِ صالحہ کرنے والوں کی جزا کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہےجَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ (البقرۃ : ۲۶) اب میں پوچھتا ہوں کہ کیا کوئی ان باتوں کو قصہ قرار دے سکتا ہے۔یہ کیسی سچی بات ہے جو یہاں آبپاشی کرتے ہیں وہی پھل کھائیں گے۔غرض قرآن شریف اپنی ساری تعلیموں کو علوم کی صورت اور فلسفہ کے رنگ میں پیش کرتا ہے اور یہ زمانہ جس میں خدا تعالیٰ نے ان علوم حقّہ کی تبلیغ کے لیے اِس سلسلہ کو خود قائم کیا ہے۔کشفِ حقائق کا زمانہ ہے۔