ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 478 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 478

میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں تو اپنے دشمن کا بھی سب سے بڑھ کر خیر خواہ ہوں۔کوئی میری باتوں کو سنے بھی۔یہ جو کچھ میں نے کہا ہے آپ اس پر غور کریں اور اس پر جو کچھ باقی رہ جاوے اُسے بیان کریں۔حضرت اقدسؑ نے اپنی تقریر کو اس مقام پر ختم کر دیا تھا کہ خاکسار ایڈیٹر الحکم نے عرض کی کہ مسٹر عبد الحق صاحب نے اپنی تقریر میں عماد الدین کے حوالہ سے ایک بات تثلیث کے ثبوت میں کہی ہے کہ وضو کرتے وقت تین دفعہ ہاتھ دھوتے ہیں۔یہ تثلیث کا نشان ہے۔اس پر بھی کچھ فرما دیا جاوے۔فرمایا۔یہ تو بالکل بےہودہ اور کچی باتیں ہیں۔اس طرح پر ثبوت دینا چاہو تو جتنے مرضی ہیں خدا بنا لو۔عماد الدین کی اِن باتوں پر پادری رجب علی نے ایک ریویو لکھا تھا اور اس نے بڑا واویلا کیا تھا کہ ایسی باتوں سے عیسائیت کی توہین ہوتی ہے چونکہ وہ کچھ ظریف طبع تھا کہ عماد الدین سے تثلیث کے ثبوت میں یہ بات رہ گئی اور پھر ایک ایسی مثال دی جو قابلِ ذکر نہیں۔اس نے لکھا کہ عماد الدین بالکل ایک جاہل آدمی تھا۔میں نے اُس کو اردو کی عبارت کا مطلب بیان کرنے ہی کی دعوت کی تھی جس کا جواب نہ دے سکا۔اور ’’نورالحق‘‘ کا جواب آج تک نہ ہوا۔حالانکہ پانچ ہزار روپیہ انعام بھی تھا۔ایسی باتیں تو پیش کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔دیکھو! آخر مَرنا ہے۔خدا سے ڈرنا چاہیے۔دین کے معاملہ میں بڑی غوروفکردرکارہے اورپھرخدا کافضل۔۱