ملفوظات (جلد 2) — Page 477
حقائق اور معارف کی وجہ سے پھیلا ہے۔غرض یہودی پیشگوئیوں کی بحث میں غالب آجائیں گے اور حق اُن کے ساتھ ہے۔اور یہ دیکھا بھی گیا ہے کہ یہودی معقول بات کہتے ہیں جیسے ایلیا کے بارے میں اُنہوں نے کہا ہے اور ایسا ہی اس بارے میں اُن کے ہاتھ میں شہادتوں کا ایک زرّیں سلسلہ ہے اور اگر کوئی چاہے تو اُن کی کتابیں اب بھی منگوا کر دکھا سکتے ہیں۔یہی میں نے سراج الدین کو بھی کہا تھا۔دیکھو! انسان ایک برتن کو لیتا ہے تو اسے بھی دیکھ بھال کر لیتا ہے۔پھر ایمان کے معاملہ میں اتنی لاپروائی کیوں کی جاتی ہے؟ پس یہ پیشگوئیاں تو یوں ردّ ہوئیں۔اب باقی رہے انجیل کے اقوال تو سب سے پہلے تو ہم یہ کہتے ہیں کہ جب اصل انجیل ہی اُن کے ہاتھ میں نہیں ہے تو کیوں یہ امر قرین قیاس نہ مانا جاوے کہ اس میں تحریف کی گئی ہے کیونکہ مسیح اور اس کی ماں کی زبان عبرانی تھی۔جس ملک میں رہتے تھے وہاں عبرانی بولی جاتی تھی۔صلیب کی آخری ساعت میں مسیح کے منہ سے جو کچھ نِکلا وہ عبرانی تھا یعنی اِیْلِیْ اِیْلِیْ لِمَا سَبَقْتَانِیْ۔اب بتائو کہ جب اصل انجیل ہی کا پتہ ندارد ہے تو اس ترجمہ پر کیا دوسرے کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ کہے اصل انجیل پیش کرو۔اس صورت میںتو عیسائی یہودیوں سے بھی گر گئے کیونکہ انہوں نے اپنی اصلی کتاب کو تو گم نہیں کیا۔پھر انجیل میںمسیح نے کہا ہے کہ ’’میری انجیل‘‘ اب اس لفظ پر غور کرنے سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ اصل مسودہ انجیل کا کوئی مسیحؑ نے بھی لکھا ہو اور یہ تو نبی کا فرض ہوتا ہے کہ وہ خدا کی وحی کو محفوظ کرے اور اس کی حفاظت کا کام دوسروں پر نہ ڈالے کہ وہ جو چاہیں سو لکھ لیں۔پولوس کی بابت میں پہلے کہہ آیا ہوں کہ جس کی تحریروں یا تقریروں پر اپنی خدائی کا انحصار تھا۔تعجب کی بات ہے کہ خدا ہو کر اس کے واسطے منہ سے ایک لفظ بھی پیشگوئی کا نہ نکلا بلکہ چاہیے تھا کہ وصیت نامہ لکھ دیتے کہ پولوس اس مذہب کا جمعدار کیا جاوے گا اور جب یہ نہیں تو پھر اس کو کیا حق حاصل تھا کہ وہ خود بخود مجتہد بن بیٹھا۔اس کو یہ سارٹیفکیٹ ملا کہاں سے تھا؟ یہی وجہ ہے کہ یہ یسوعی مذہب نہیں بلکہ پولوسی ایجاد ہے، غرض صدق اور اخلاص بڑی نعمت ہے جس کو خدا دے۔مختصر یہ کہ خدا بہتر جانتا ہے اور