ملفوظات (جلد 2) — Page 468
فرزند من بلکہ نخست زادۂ من است۔اب اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا۔اور خدا کی بیٹیاں بھی بائبل سے تو ثابت ہوتی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خدا کا اطلاق بھی ہوا ہے کہ تم خدا ہو۔اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہو گا۔اب ہر ایک مُنصف مزاج دانش مند غور کرسکتا ہے کہ اگر اِبن کا لفظ عام نہ ہوتا تو تعجب کا مقام ہوتا۔لیکن جبکہ یہ لفظ عام ہے اور آدمؑکو بھی شجرۂ ابناء میں داخل کیاگیا ہے اور اسرائیل کو نخست زادہ بتایا گیا ہے اور کثرتِ استعمال نے ظاہر کر دیا ہے کہ مقدسوں اور راستبازوں پر یہ لفظ حُسنِ ظن کی بنا پر بولا جاتا ہے۔اب جب تک مسیح پر اس لفظ کے اطلاق کی خصوصیت نہ بتائی جاوے کہ کیوں اس ابنیت میں وہ سارے راست بازوں کے ساتھ شامل نہ کیا جاوے اس وقت تک یہ لفظ کچھ بھی مفید اور مؤثر نہیں ہو سکتا کیونکہ جب یہ لفظ عام اور قومی محاورہ ہے تو مسیح پر اُن سے کوئی نرالے معنے پیدا نہیں کرسکتا۔میں اس لفظ کو مسیح کی خدائی یا ابنیت یا الوہیت کی دلیل مان لیتا اگر یہ کسی اور کے حق میں نہ آیا ہوتا۔میں سچ سچ کہتا ہوں اور خدا تعالیٰ کے خوف سے کہتا ہوں کہ ایک پاک دل رکھنے والے اور سچے کانشنس والے کے لیے اس بات کی ذرا بھی پروا نہیں ہوسکتی اور ان الفاظ کی کچھ بھی وقعت نہیں ہوسکتی جب تک یہ ثابت کرکے نہ دکھایا جاوے کہ کسی اور شخص پر یہ لفظ کبھی نہیں آئے اور یا آئے تو ہیں مگر مسیح ان وجُوہاتِ قویہ کی بنا پر اَوروں سے ممتاز اور خصوصیت رکھتا ہے۔یہ تو دورنگی ہے کہ مسیح کے لیے یہی لفظ آئے تو وہ خدا بنایا جاوے اور دوسروں پر اس کا اطلاق ہوتو وہ بندے کے بندے؟ اگر یہ اعتقاد کیا جاوے کہ خدا خود ہی آکر دنیا کو نجات دیا کرتا ہے یا اس کے بیٹے ہی آتے ہیں تو پھر دَور لازم آئے گا اور ہر زمانہ میں نیا خدا یا اس کے بیٹوں کا آنا ماننا پڑے گا جوصریح خلاف بات ہے۔ان ساری باتوں کے علاوہ ایک اور بات قابلِ غور ہے کہ وہ کیا نشانات تھے جن سے حقیقتاً مسیحؑ کی خدائی ثابت ہوتی۔کیا معجزات؟اوّل تو سِرے سے ان معجزات کا کوئی ثبوت ہی نہیں کیونکہ انجیل نویسوں کی نبوت ہی کا کوئی ثبوت نہیں۔اگر ہم اس سوال کو درمیان نہ بھی لائیں اور اس بات کا لحاظ نہ کریں کہ اُنہوں نے ایک محقق اور چشم دید حالات لکھنے والے کی حیثیت سے نہیں لکھے۔تب بھی ان معجزات میں کوئی رونق اور قوت نہیںپائی جاتی جبکہ ایک تالاب ہی کا قصہ مسیح کے سارے معجزات کی