ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 467 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 467

اور وہ کبھی بھی مسیح کی بابت یہ خیال رکھ کر کہ وہ تثلیث کا ایک جزو ہے منتظر نہیں۔چنانچہ میں نے اس سے پہلے بہت واضح طور پر اس کے متعلق سنایا ہے اور عیسائی لوگ محض زبردستی کی راہ سے ان پیشگوئیوں کو حضرت مسیح پر جماتے ہیں جو کسی طرح بھی نہیں جمتی ہیں ورنہ علما ء یہودکی کوئی شہادت پیش کرنی چاہیے کہ کیا وہ اس سے یہی مراد لیتے ہیں جو تم لیتے ہو۔پھر انجیل کو پڑھ کر دیکھ لو (وہ کوئی بہت بڑی کتاب نہیں) اُس میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوا کہ حضرت مسیح نے ان پیشگوئیوں کو پورا نقل کرکے کہا ہو کہ اس پیشگوئی کے رو سے میں خدا ہوں اور یہ میری اُلوہیت کے دلائل ہیں کیونکہ نِرا دعویٰ تو کسی دانش مند کے نزدیک بھی قابلِ سماعت نہیں ہے اور یہ بجائے خود ایک دعویٰ ہے کہ ان پیشگوئیوں میں مسیح کو خدا بنایا گیا ہے۔مسیح نے خود کبھی دعویٰ نہیں کیا تو کسی دوسرے کا خواہ مخواہ اُن کو خدا بنانا عجیب بات ہے۔اور پھر اگر بفرض محال کیا بھی ہو تو اس قدر تناقض اُن کے دعویٰ اور افعال میں پایا جاتا ہے کہ کوئی عقل مند اور خدا ترس اُن کو پڑھ کر انہیں خدا نہیں کہہ سکتا بلکہ کوئی بڑا عظیم الشان انسان کہنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔انجیل کے اس دعویٰ کو ردّ کرنے کے لیے تو خود انجیل ہی کافی ہے کیونکہ کہیں مسیح کا ادّعا ثابت نہیں بلکہ جہاں اُن کو موقع ملا تھا کہ وہ اپنی خدائی منوالیتے وہاں اُنہوں نے ایسا جواب دیا کہ ان ساری پیشگوئیوں کے مصداق ہونے سے گویا انکار کر دیا اور ان کے افعال اور اقوال جو انجیل میں درج ہیں وہ بھی اسی کے مؤید ثابت ہوتے ہیں کیونکہ خدا کے لیے تو یہ ضرور ہے کہ اُس کے افعال اور اقوال میں تناقض نہ ہو حالانکہ انجیل میں صریح تناقض ہے۔مثلاً مسیح کہتا ہے کہ باپ کے سوا کسی کو قیامت کا عِلم نہیں ہے۔اب یہ کیسی تعجب خیز بات ہے کہ اگر باپ اور بیٹے کی عینیت ایک ہی ہے تو کیا مسیح کا یہ قول اس کا مصداق نہیں کہ دروغ گو را حافظہ نباشد کیونکہ ایک مقام پر تو دعویٰ خدائی اور دوسرے مقام پر الوہیّت کے صفات کا انکار اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ انجیل میں مسیح پر بیٹے کا لفظ آیا ہے اس کے جواب میں ہمیں یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ انجیل محرف یا متبدل ہے۔بائبل کے پڑھنے والوں سے یہ ہرگز مخفی نہیں ہے کہ اس میں بیٹے کا لفظ کس قدر عام ہے۔اسرائیل کی نسبت لکھا ہے کہ اسرائیل