ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 465 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 465

(اس پر مسٹر عبدالحق نے کہا کہ میںکل لکھ کر سنادوںگا اور حضرت اقدس تشریف لے گئے۔)۱ ۲۶؍دسمبر ۱۹۰۱ء چوتھی ملاقات آ ج احبا ب بہت کثر ت سے آ گئے تھے اور لا ہو ر ، وزیر آ باد ، راولپنڈی ، علاقہ کا بل ، جموں، گوجرانوالہ، امرتسر، کپور تھلہ، گڈھ شنکر، لودھانہ، الٰہ آباد، سا نبھر وغیرہ مقا ما ت سے اکثر دوست آچکے تھے۔حضر ت اقدسؑ حسب معمو ل سیر کو نکلے اور خدّام کے زمر ہ میں یہ نورِ خدا چلا۔احبا ب کا پروا نوں کی طرح ایک دو سر ے پر گرنابھی بجا ئے خو د دیکھنے والے کے لیے ایک عجیب نظا رہ تھا۔الغر ض مسٹرعبدالحق صاحب نے کل کے حضرت ا قد س کے ارشا د کے موا فق ایک مختصر سی تحر یر پڑھ کرسنا ئی جو ان کے اپنے خیال میں تثلیث اور مسیح کی الوہیت کے دلائل پر مشتمل تھی۔اس کو سن لینے کے بعدحضرت ا قد س نے اپنا سلسلہ کلام یوںشروع فرما یا۔تثلیث والُوہیّت ِمسیح اصل بات یہ ہے کہ یہ بات ہر شخص کو معلوم ہے اور اس سے کوئی دانش مند انکار نہیںکر سکتا کہ ہر آدمی جس غلطی میںمبتلاہے یاجس غلط خیال میں گرفتار ہے وہ اس کے لیے اپنے پاس کوئی نہ کوئی وجوہاتِ رکیکہ ضرور رکھتا ہے مگر دانش مند اور سلیم الفطرت انسان کا خاصہ ہے کہ وہ ان کی توزین کر کے اصل نتیجہ کو جو سچائی ہو تی ہے تلاش کرنے لگتا ہے۔اب اسی اصول کے موافق عیسا ئیوں نے بھی اپنے اس عقیدہ تثلیث کے متعلق کچھ باتیں بنا رکھی ہیں جن کو وہ دلائل قرار دیتے ہیںاور سمجھتے ہیں۔مگر ابھی آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ دلائل کیا وقعت رکھ سکتے ہیںاور ان میںکہاںتک قوت اور زور ہے۔جس حال میںعیسائیوںمیںایسے فرقے بھی موجود ہیںجو مسیح کی اُلوہیت اور خدائی کے قائل نہیںاور نہ وہ تثلیث ہی کو مانتے ہیں جیسے مثلاً یُونی ٹیرین۔تو کیا وہ اپنے دلائل اور وجوہات انجیل سے بیان نہیں کرتے؟ وہ بھی تو انجیل ہی پیش