ملفوظات (جلد 2) — Page 464
کھا لے تو وہ اندر جا کر خرابی پیدا کرتی ہے اور قے یادست کی صورت میںنکلتی ہے۔اسی طرح کوئی گندہ عقیدہ اندر رہ کر فسادکرنے سے نہیںرکتا اور اس کافسادیہی ہے کہ انسان کے اخلاق چال چلن پر بُرا اثر ہو جاتا ہے اوروہ ایک مجذوم کی مانند بن جاتاہے۔پس جوچیز آپ کے دل میںکھٹکے آپ اُسے پوچھیںاور تثلیث کے ردّمیں مختصراً میںکہہ چکاہوں اوراب میںآپ سے اُس کے دلائل سنناچاہتاہوں کیونکہ اُس کابار ِثبوت آپ پرہے جو اسے مدارِنجات ٹھہراتے ہیں اور ایک گروہ کثیر سے اختلاف کرتے ہیں مثلاً ایک شخص ایک معمولی بات کے خلاف جو دنیانے مانی ہے کہ انسان آنکھ سے دیکھتاہے اور زبان سے چکھتا اور بولتاہے اور کانوںسے سنتا ہے یہ کہے کہ انسان آنکھ سے بولتاہے اور کان سے دیکھتاہے توقانون کی رُو سے ثبوت اسی کے ذمہ ہے۔اس طرح پر تثلیث کاتوکوئی قائل نہیں۔یہودی جو ابراہیمی سلسلہ میں ہیں وہ اس سے انکار کرتے ہیںاور صاف کہتے ہیں کہ ہماری کتابوںمیںاس کاکوئی نام ونشان نہیںبر خلاف اس کے توحید کی تعلیم ہے اور نہ آسمان پر نہ زمین پر نہ پانی میںغرض کہیںبھی دُوسراخداتجویز کرنے سے منع کیاگیاہے۔پھر میں نے قانون قدرت سے آپ کو ثابت کر دکھایاکہ توحیدہی ماننی چاہیے۔پھر باطنی شریعت میں توحید کے نقوش ہیں۔اب آپ جو نقل، عقل اور باطنی شریعت کے خلاف کہتے ہیں کہ خداایک نہیں بلکہ تین ہیں تویہ ثبوت آپ ہی کے ذمہ ہے۔یہ مسئلہ ایساہے کہ ہمیںتو فقط اس کے سننے ہی کاحق ہے۔کیونکہ نبیوںاور راست بازوںکی تعلیم کے صریح خلاف ہے۔میں خدا کوحاضر ناظر جان کر کہتا ہوںاور خدا نے میرے دل کو اس سے پاک بنایا ہے کہ اس میں بے انصافی ہو کہ اس کا بار ثبوت آپ کے ذمہ ہے رکیک تاویلوںسے کام نہیں چلتا اور نہ اُن سے تسلی ہوسکتی ہے۔آپ خود دل میںانصاف کریںکہ راست باز کے بغیر کوئی وہ کام نہ کرے گا جو میں کرتا ہوں۔پس آپ جس قدرمفصل اس پر لکھ سکیںوہ لکھ کر سناویں مگر اتنایادرکھیںکہ دعویٰ اپنے نفس میںابہام رکھتاہے۔بعض آدمیوںکو یہ دھوکالگ جاتاہے کہ وہ دعویٰ اوردلیل میںفرق نہیںکر سکتے۔دعویٰ کے لیے دلیل ایک روشن چراغ ہوتی ہے۔پس دعویٰ اور دلیل میںفرق کر لینا ضروری ہے۔