ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 41

کرتی۔علوم دین حاصل کرنے کے پورے سامان میسر ہیں۔ارکان مذہبی ادا کرنے میں کوئی تکلیف نہیں ہے۔ایک سجدہ کا کرنا بارِ گراں معلوم ہوتا ہے۔غور تو کرو کہاں سر اور کہاں صرف ایک سجدہ!اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آج ایمان کیسا انحطاط کی حالت میں ہے۔وضو اور نماز اور پھر ایسی حالت میں کہ نماز کا پڑھنا اور وضو کا کرنا طبی فوائد بھی اپنے ساتھ رکھتا ہے۔اطبا کہتے ہیں کہ اگر کوئی ہر روز منہ نہ دھوئے تو آنکھ آجاتی ہے۔(آنکھ دکھنے لگتی ہے۔ایڈیٹر) اور یہ نزول الماءکا مقدمہ ہے۔اور بہت سی بیماریاںاس سے پیدا ہوتی ہیں۔پھر بتلاؤ کہ و ضو کرتے ہوئے کیوں موت آتی ہے۔بظاہر کیسی عمدہ بات ہے۔منہ میں پانی ڈال کر کلی کرنا ہوتا ہے۔مسواک کرنے سے منہ کی بد بو دور ہوتی ہے۔دانت مضبوط ہو جاتے ہیں اور دانتوں کی مضبوطی غذا کے عمدہ طور پر چبانے اور جلد ہضم ہو جانے کا باعث ہوتی ہے۔پھر ناک صاف کرنا ہوتا ہے۔ناک میں کوئی بد بو داخل ہو تو دماغ کو پرا گندہ کر دیتی ہے۔اب بتلاؤ کہ اس میں برائی کیا ہے۔اس کے بعد وہ اللہ تعالیٰ کی طرف اپنی حاجات لے جاتا ہے اور اس کو اپنے مطالب عرض کرنے کا موقع ملتا ہے۔دعا کرنے کے لئے فرصت ہوتی ہے۔زیادہ سے زیادہ نماز میں ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے اگرچہ بعض نمازیں تو پندرہ منٹ سے بھی کم میں ادا ہو جاتی ہیں۔پھر بڑی حیرانی کی بات ہے کہ نماز کے وقت کو تضییع اوقات سمجھا جاتا ہے۔جس میں اس قدر بھلائیاں اور فائدے ہیں اور اگر سارا دن اور ساری رات لغو اور فضول باتوں یا کھیل اور تماشوں میں ضائع کر دیںتو اس کا نام مصروفیت رکھا جاتا ہے۔اگر قوی ایمان ہوتا ،قوی تو ایک طرف اگر ایمان ہی ہوتا تو یہ حالت کیوں ہوتی اور یہاں تک نوبت کیوں پہنچتی۔ناصح سے تنفّر باوجود اس کے کہ اس قدر ایمانی حالت گر گئی ہے اس پر بھی اگر کوئی اس کمزوری کو محسوس کرا کے اس کا علاج کرنا چاہے اور وہ راہ بتائے جس پر چل کر انسان خدا سے ایک قوت اور شجاعت پاتا ہے تو اس کو کافر اور دجّال کہا جاتا ہے۔میں کہتا ہوں کہ اگر یہ لوگ ایمان کا ایک نتیجہ یقین نہیں کر سکتے تو کم از کم فرض ہی کر لیں۔فرض پر بھی تو بڑے بڑے نتائج مترتب ہو جاتے ہیں۔دیکھو!اقلیدس کا سارا مدار فرض ہی پر ہے اس سے بھی کس قدر فوائد