ملفوظات (جلد 2) — Page 463
یہاںتک پہنچی ہوئی ہے۔حضرت مسیح موعود ؑ۔گالیاں دیتے ہیں اس کی تو مجھے کچھ بھی پروا نہیں ہے۔بہت سے خطوط گالیوں کے آتے ہیں جن کا مجھے محصول بھی دینا پڑتا ہے اور کھولتاہوںتوگالیا ںہوتی ہیں۔اشتہاروں میں گالیاں دی جاتی ہیں۔اور اب تو کھلے لفافوں پر گالیاںلکھ کر بھیجتے ہیں۔مگر ان باتوںسے کیا ہوتا ہے اور خدا کا نور کہیں بجھ سکتاہے؟ ہمیشہ نبیوں، راستبازوں کے ساتھ ناشکروں نے یہی سلوک کیاہے ہم جس کے نقش قدم پر آئے ہیں مسیح ناصری اس کے ساتھ کیا ہوا۔اورہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیاہو ا۔اب تک ناپاک طبع لوگ گالیاںدیتے ہیں۔میںتو بنی نوع انسان کاحقیقی خیر خواہ ہوں جو مجھے دشمن سمجھتاہے وہ خود اپنی جان کادشمن ہے۔(اتنے میں مکان کے قریب پہنچ گئے اور حضرت ؑنے پھرفرمایاکہ ) آپ مہمان ہیں آپ کو جس چیز کی تکلیف ہو مجھے بے تکلّف کہیں کیونکہ میں تواندر رہتا ہوںاور نہیںمعلوم ہوتاکہ کس کوکیاضرورت ہے اور آج کل مہمانوںکی کثرت کی وجہ سے بعض اوقات خادم بھی غفلت کر سکتے ہیں۔آپ اگر زبانی کہناپسند نہ کریں تو مجھے لکھ کر بھیج دیاکریں۔مہمان نوازی تومیرافرض ہے۔۱ ۲۴؍دسمبر۱۹۰۱ء تیسری ملاقات مسٹر عبد الحق۔کفّارہ کامسئلہ تو میں نے سمجھ لیا ہے تثلیث کارد کریں۔حضرت مسیح موعودؑ۔میںنے سب سے پہلے اسی لیے آپ کو کہاتھاکہ آپ اپنے اعتراض پیش کریں جو اسلام پر ہوتے ہیںاور خود اپنی تقریر کے ضمن میں جہاد، غلامی، تعدد ازدواج پر کچھ باتیںکی تھیں تاکہ آپ کو اس پر اعتراض کرنے کاموقع ملے۔میری رائے میںطالب حق کافرض ہے کہ جوبات اس کے دل میںخلجان کرے اس کو فوراً پیش کردے ورنہ وہ ایمان کوکمزور کرے گی اور روحانی قوتوں پر برا اثر ڈالے گی۔جیسے کوئی خراب غذا