ملفوظات (جلد 2) — Page 460
وجود باری پر دو ہی قسم کے دلائل ہو سکتے ہیں۔اوّل تو مصنوع کو دیکھ کر صانع کے وجود کی طرف ہم انتقال ذہن کا کرتے ہیں۔وہ تو یہاںمفقود ہے کیونکہ اس نے کچھ پیداہی نہیں کیا۔کچھ پیدا کیا ہو تو اس سے وجودخالق پر دلیل پیدا کریںاور یا دوسری صورت خوارق اور معجزات کی ہوتی ہے۔اس سے وجود باری پر زبردست دلائل قائم ہوتے ہیں مگر اس کے لیے دیانند اور سب آریوںنے اعتراف کیا ہے کہ وید میںکسی پیشگوئی یا خارق عادت امر کا ذکر نہیں اور معجزہ کوئی چیز ہی نہیں ہے اب بتاؤ کہ کون سی صورت خدا کی ہستی پر دلیل قائم کرنے کی اُن کے عقیدہ کے رو سے رہی اور پھر اُن کا ایسا خدا ہے کہ کوئی ساری عمر کتنی ہی محنت ومشقت سے اُس کی عبادت کرے مگر اس کو ابدی نجات ملے گی ہی نہیں۔ہمیشہ جونوںکے چکر میں اُسے چلنا ہو گا کبھی کیڑا مکوڑا اور کبھی کچھ کبھی کچھ بنناہوگا۔حقوق العباد کے متعلق اتناہی کافی ہے کہ اُن میں نیوگ کا مسئلہ موجود ہے کہ اگر ایک عورت کے اپنے خاوند سے اولاد نہ ہوتی ہو تو وہ کسی دوسرے مرد سے ہمبستر ہو کر اولاد پیدا کر لے اور کھانے پینے مقویات اور بستر وغیر ہ کے سارے اخراجات اُس بیرج داتا کے اس خاوند کے ذمہ ہوںگے جو اپنی عورت کو اُس سے اولاد لینے کی اجازت دیتا ہے۔اس سے بڑھ کر قابل ِشرم اور کیا بات ہوگی۔یہ تو مختصر سا نمونہ ہے۔یہاںقادیان میں پنڈت سومراج ایک مدرس تھا جو آریہ ہے اُس کو میں نے ایک جماعت کے رو برو بلایا جس میں بعض ہندو بھی تھے اور اُس سے یہ مسئلہ پوچھا۔تو اُس نے کہا ہاںجی کیا مضائقہ ہے۔اب ہمیںتواس کے منہ سے یہ سن کر تعجب ہی ہوا دوسرے ہندو رام رام کرنے لگے۔میں نے سن کر کہا کہ بس آپ جائیے۔غرض یہ ہے اُن میں حقوق العباد کالحاظ۔مسٹر عبدالحق صاحب۔میں نے آپ کی کتاب ’’ آریہ دھرم ‘‘پڑھی ہے۔حضرت مسیح موعودؑ۔ساری تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر سچا مذہب اور سچا عقید ہ ان تین نشانو ں یعنی نصوص، عقل اور تائید سماوی سے شناخت کیا جاتا ہے اور عیسائی مذہب کی بابت میں نے مختلف پہلوؤں سے مختصر طور پر آپ کو دکھایا ہے کہ اس معیار پر پورانہیں اترتا۔یہودیوں کی کتابو ں میں اس تثلیث اور کفّارہ کا کوئی پتہ نہیں اور کبھی وہ بیٹے خدا کے منتظرہی نہ تھے اور عقل دور سے دھکے دیتی ہے۔نشانات کا