ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 461 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 461

یہ حال کہ ایمانداروںکے نشان کا پایا جانابھی مشکل ہے۔ایک بار فتح مسیح نام ایک عیسائی نے کہا تھا کہ مجھے الہام ہوتا ہے۔میں نے جب اُسے کہا کہ تو پیشگوئی کر تو گھبرایا اور مجھے کہا کہ ایک مضمون بند لفافہ میں رکھا جاوے اور آپ اس کا مضمو ن بتادیں۔مجھے خدا تعالیٰ نے اطلاع دی کہ تو اس کو قبول کر لے۔جب میں نے اس کو بھی قبول کر لیا تو کئی سَو آدمیوں کے مجمع میں آخر پادری وائٹ بریخٹ نے کہا کہ یہ فتح مسیح جھوٹا ہے۔غرض حق ایک ایسی چیز ہے کہ اپنے ساتھ نصوص اور عقل کی شہادت کے علاوہ نور کی شہادت بھی رکھتاہے اور یہ شہادت سب سے بڑھ کر ہوتی ہے اور یہی ایک نشان مذہب کی زندگی کا ہے کیو نکہ جو مذہب زندہ خدا کی طرف سے ہے اس میں ہمیشہ زندگی کی روح کا پایا جانا ضروری ہے تا اس کے زندہ خدا سے تعلق ہونے پر ایک روشن نشان ہو مگر عیسائیوں میں یہ ہرگز نہیں ہے حالانکہ اس زمانہ میں جو سائنس اور ترقی کا زمانہ کہلاتاہے ایسے خارق عادت نشانوں کی بڑی بھاری ضرورت ہے جو خدا تعالیٰ کی ہستی پر دلائل ہو ں۔اب اس وقت اگر کوئی عیسائی مسیح کے گذشتہ معجزات جن کی ساری رونق تالاب کی تاثیر دور کر دیتی ہے سنا کر اُس کی خدائی منوانا چاہے تو اس کے لیے لازمی بات ہے کہ وہ خود کوئی کرشمہ دکھائے ورنہ آج کوئی منطق یا فلسفہ ایسا نہیں ہے جو ایسے انسان کی خدائی ثابت کر دکھائے جو ساری رات روتارہے اور اُس کی دعابھی قبول نہ ہو اور جس کی زندگی کے واقعات نے اُسے ایک ادنیٰ درجہ کا انسان ثابت کیا ہو۔پس میں دعویٰ سے کہتا ہوں اور خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں اس میں سچا ہوں اور تجربہ اور نشانات کی ایک کثیر تعداد نے میری سچائی کو روشن کر دیا ہے کہ اگر یسوع مسیح ہی زندہ خدا ہے اور وہ اپنے صلیب بردارو ں کی نجات کاباعث ہوا ہے اور ان کی دعاؤںکو قبول کرتا ہے باوجود یکہ اس کی خود دعا قبول نہیںہوئی توکسی پادری یا راہب کو میرے مقابلہ پر پیش کرو کہ وہ یسوع مسیح سے مدد اور توفیق پا کر کوئی خارق عادت نشان دکھائے۔میں اب میدان میں کھڑا ہوں اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں اپنے خدا کو دیکھتا ہوںوہ ہر وقت میرے سامنے اور میرے ساتھ ہے۔میں پکار کر کہتا ہوںمسیح کو مجھ پر زیادت نہیں کیونکہ میں نور محمدی کا قائم مقام ہوں جو ہمیشہ اپنی روشنی سے زندگی کے نشان قائم کرتاہے۔اس سے بڑھ کر اور کس چیز کی ضرورت