ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 456 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 456

کو ہم دیکھیں۔پچھلوںکا یہ حال ہے اور اب کوئی دکھا نہیں سکتا۔اگر اسی طرح پر ہی مان لینا ہے تو ہندوئوں نے کیا قصور کیا ہے کہ اُن کے ۳۳ کروڑ دیوتائوں کو نہ مانا جاوے اور پورانوں کے قصوں کو تسلیم نہ کیا جاوے۔دیانند نے ایک جدید طریق نکال کر ہندوئوں کے مذہب پر تو ہاتھ صاف کیا کہ رام کا نام وید میں نہیں ہے مگر خود جو کچھ ویدوں کا خلاصہ پیش کیا وہ بھی ایک گند نکالا۔مذہب کا خلا صہ مذہب کا خلا صہ دو ہی با تیں ہیںاور اصل میں ہر مذہب کا خلاصہ ان دو ہی باتوں پرآ کر ٹھہر تا ہے یعنی حق اللہ اور حق العباد۔مگر ان دونو ں ہی کے متعلق اس نے گند پیش کیا اور اسے وید کی تعلیم کا عطر بتا یا ہے۔یاد رکھنا چاہیے کہ حق دو ہی ہیں ایک خدا کے حقو ق کہ اسے کس طرح ماننا چا ہیے اور کس طر ح پر اس کی عباد ت کر نی چاہیے۔دوم بندوں کے حقوق یعنی اس کی مخلو ق کے سا تھ کیسی ہمدردی اور مواسات کرنی چاہیے۔دیانند نے اس کے متعلق جو کچھ بتایا ہے وہ میںپھر بتاؤںگا۔پہلے یہ ظاہر کر دوں کہ عیسائیوں نے بھی ان دونوںاصولوں میں سخت بیہودہ پن ظاہر کیا ہے۔حق اللہ میں تو دیکھ لیا کہ انہوں نے اس خدا کو چھوڑ دیا جو موسیٰ اور دیگر راستبازوں اور پاکیزہ لوگوں پر ظاہر ہوا تھا اور ایک عاجز انسان کو خدا بنا لیا اور حقوق العباد کی وہ مٹی پلید کی کہ کسی طرح پر وہ درست ہونے میں نہیں آتے۔انجیل کی ساری تعلیم ایک ہی طرف جھکی ہوئی ہے اور انسان کی کل قوتوں کی مربی نہیں ہو سکتی۔اوّل تو کفّارہ کا مسئلہ مان کر پھر حقوق العباد کے اتلاف سے بچنے کے لئے کوئی وجہ ہی نہیں مل سکتی ہے کیونکہ جب یہ مان لیا گیا ہے کہ مسیح کے خون نے گناہوں کی نجاست کو دور کردیا ہے اور دھو دیا ہے حالانکہ عام طور پر بھی خون سے کوئی نجاست دور نہیں ہو سکتی ہے تو پھر عیسائی بتائیں کہ وہ کونسی بات ہے جو حقیقت میں انہیں روک سکتی ہے کہ وہ دنیا میں فساد نہ کریں او رکیونکر یقین کریں، چوری کرنے، بیگانہ مال لینے، ڈاکہ زنی، خون کرنے، جھوٹی گواہی دینے پر کوئی سزا ملے گی اگر باوجود کفارہ پرایمان لانے کے بھی گناہ گنا ہ ہی ہیں تو میری سمجھ میںنہیں آتا کہ کفار ہ کے کیامعنی ہیں اور عیسائیوں نے کیا پایا۔