ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 455 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 455

اچھا! زندہ نشانات کو تو جانے دو۔عیسائی مذہب جو اپنے تائیدی نشانوں کے لیے مسیح کی قبر کا پتہ دیتا ہے کہ اس نے فلاں قبر سے مُردہ اُٹھایا تھا وہ بجز قصوں کے اور کیا وقعت رکھ سکتے ہیں۔اسی لیے میں نے بار ہا کہا ہے کہ یہ سلبِ امراض کے اعجوبے جو بعض ہندو سنیا سی بھی کرتے ہیں اور اس ترقی کے زمانہ میں مسمریزم والے بھی دکھاتے ہیں آج کوئی معجزات کے رنگ میں نہیں مان سکتا اور پیشگوئی ہی ایک ایسا زبردست نشان ہے جو ہر زمانہ میں قابلِ عزّت سمجھا جاتا ہے۔مگر ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسیح کی جو پیشگوئیاں انجیل میں درج ہیں وہ ایسی ہیں کہ ان کو پڑھ کر ہنسی آتی ہے کہ قحط پڑیں گے زلزلہ آئیں گے مرغ بانگ دے گا وغیرہ۔اب ہر ایک گائوں میں جا کر دیکھو کہ ہروقت مرغ بانگ دیتے ہیں یا نہیں اور قحط اور زلزلے بالکل معمولی باتیں ہیں جو آجکل کے مدبّر تو اس سے بھی بڑھ کر بتا دیتے ہیں کہ فلاں وقت طوفان آئےگا فلاں وقت بارش شروع ہو گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کو دیکھو کہ کس طرح پر چھ سو سال پہلے کہا کہ ایک آگ نکلے گی جو سبزہ کو چھوڑ ے گی اور پتھر کو گلائے گی اور وہ پوری ہوئی۔اس قسم کی درخشاں پیشگوئیاں تو پیش کریں۔میں نے ایک ہزار روپیہ کا انعام کا اشتہار مسیح کی پیشگوئیوں کے لیے دیا تھا مگر آج تک کسی عیسائی نے ثابت نہ کیا کہ مسیح کی پیشگوئیاں ثبوت کی قوت اور تعداد میں میری پیشگوئیوں سے بڑھ کر ہیں۔جن کا گواہ سارا جہان ہے۔مسیح کے معجزات جو قصص کے رنگ میں ہیں ان سے کوئی فوق العادت تائید الٰہی کا پتہ نہیں لگتا۔جبکہ آج اس سے بھی بڑھ کر طبی کرشمے اور عجائبات دیکھے جاتے ہیں۔خصوصاًایسی حالت میں کہ خود انجیل میں ہی لکھا ہے کہ ایک تالاب تھا جس میں ایک وقت پر غسل کرنے والے شفا پالیتے تھے اور اب تک یورپ کے بعض ملکوں میں ایسے چشمے پائے جاتے ہیں اور ہمارے ہندوستان میں بھی بعض چشموں یا کنوئوں کے پانی میں ایسی تاثیر ہوتی ہے۔تھوڑے دن ہوئے اخبارات میں شائع ہوا تھا کہ ایک کنوئیںکے پانی سے جذامی اچھے ہو نے لگے ہیں۔۱ اب عیسائی مذہب کے کن تا ئیدی نشانوں