ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 453 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 453

کیمیاگر کہتا ہے کہ میں ایک ہزارکا دس ہزار کر دیتا ہوں تو کیا یہ ضروری نہیں کہ ہمیں علم ہو کہ پہلے کتنے ایسے بزرگ گزرے ہیں؟ لیکن جب ہم اس پر غور کریں گے تو معلوم ہو گا کہ ہزاروں نے ایسی باتوں میں آکر نقصان اٹھایا ہے۔ہمارے اس علاقہ میں ایک کیمیاگر اسی طرح پر دو آدمیوں کو ایک ہی وقت میں ٹھگ کر لے گیا۔غرض پہلا نشان نصوصِ صریحہ کا ہے۔اس کے ذریعہ اگر ہم عیسائیوں کے عقائد کو پَرکھنے لگیں تو صاف معلوم ہو جائے گا کہ یہ نرا ملمّع ہے۔حق کی چمک اس میں نہیں ہے۔جیسا کہ کل مَیں نے بیان کیا تھا کہ تثلیث اور یسوع کی خدائی کی بابت اگر یہودیوں سے پوچھا جاوے اور ان کی کتابوں کو ٹٹولا جاوے تو صاف جواب ہے وہ کبھی تثلیث کے قائل نہ تھے اور نہ کبھی انہوں نے کسی جسمانی خدا کی بابت اپنی کتاب میں پڑھا تھا جو کسی عورت کے پیٹ سے عام بچوں کی طرح حیض کے خون سے پرورش پاکر نو مہینے کے بعد پیدا ہونے والا ہو اور انسانوں کے سارے دکھ خسرہ چیچک وغیرہ جو انسانوں کو ہوتے ہیں اُٹھا کر آخر یہودیوں کے ہاتھ سے مارکھاتا ہوا صلیب پر چڑھایا جاوے گا اور پھر ملعون ہو کر تین دن ہاویہ میں رہے گا۔یا باپ، بیٹا، رُوح القدس کے مجموعہ اور مرکب خدا ہی کا ذکر اُن کی کتابوں میں کہیں ہوتا۔اگر ہے تو ہم عیسائیوں سے ایک عرصہ سے سوال کرتے رہے ہیں وہ دکھائیں۔بر خلاف اس کے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہودیوں نے منجملہ اور اعتراضوں کے جو اُس پر کیے سب سے بڑا اعتراض یہی تھا کہ یہ خدا کا بیٹا اور خدا بنتا ہے۔اور یہ کفر ہے۔اگر یہودیوں نے توریت اور نبیوں کے صحیفوں میں یہ تعلیم پائی تھی کہ دنیا میں خود خدا اور اس کے بیٹے بھی ماریں کھانے کے لیے آیا کرتے ہیں اور انہوں نے دس پانچ کو دیکھا تھا تو پھر انکار کی وجہ کیا ہوسکتی تھی؟ اصل حقیقت یہی ہے کہ اس معیار پر یہ عقیدہ کبھی پورا نہیں اتر سکتا اس لئے کہ اس میں حقانیت کی روح نہیں ہے۔اور دوسرا طریق شناخت حق اور اہل حق کا یہ ہے کہ عقلِ سلیم بھی ان کی ممد اور معاون ہو۔عقل ایسی چیز ہے کہ اگر اسے چھوڑ دو تو دین اور دنیا دونوں کے کاموں میں فتور پیدا ہوتا ہے۔اب عقل کے معیار پر اس کو کَسا جاوے تو وہ دور سے ان عقائد کو ردّ کرتی ہے۔کیا عقل کے نزدیک یہ بات