ملفوظات (جلد 2) — Page 452
دونوں تباہ ہو جاتے ہیں اور تمام اخلاقی اور روحانی قوتیں جو انسان کو اعلیٰ درجہ کے کمالات کا وارث بنا سکتی ہیں ہار دی جاتی ہیں اور اس متاع کے ہارنے سے جو رنج پیدا ہوتا ہے وہ ابدی ہوتا ہے۔پس اس قمار بازی کے خیال کو کبھی پاس بھی آنے نہیں دینا چاہیے اگر مقصد عظیم یہ ہو کہ راست بازوں کے نور سے حصہ ملے۔کبھی کوئی شخص اس نور کو نہیں پاسکتا اور اس متاع کو محفوظ نہیں رکھ سکتا جو فطرتِ سلیم اس کے پاس ہے جب تک حق گوئی اور حق جوئی اور پھر قبولِ حق کے لیے ساری دنیا کو اس کے سامنے مُردہ قرار نہ دے لے ا ور ان امورکے لیے خدا تعالیٰ سے ایک عہد کرے جو ایسا عہد خدا تعالیٰ سے نہیں کرتا وہ خدا کو مان کر بھی دہریہ ہے۔ہماری جماعت کو یاد رکھنا چاہیے کہ جیسے امراض کا بحران ہوتا ہے اسی طرح پر مختلف ملّتوں اور مذہبوں کے بحران کے یہ ایّام ہیں۔شیطان کی بھی یہ آخری جنگ ہے۔اس لیے وہ اپنے تمام آلات حرب و ضرب لے کر حق کے مقابلہ میں نکلا ہے اور وہ پورے زور اور پوری طاقت سے کوشش کرتا ہے کہ حق پر غلبہ پاوے مگر خود اُسے بھی یقینِ کامل ہے کہ اُس کی یہ ساری کوشش بے سود اور بے فائدہ ہوگی اور بہت جلد وہ وقت آتا ہے کہ شیطان مارا جاوے گا اور ملائک کی فتح ہو گی مگر بایں ہمہ وہ اپنی پُوری طاقت سے اس وقت میدان میں آیا ہے اور اس کے بالمقابل حق بھی ہے اور اس کے سامان اور ہتھیار بھی آسمان سے نازل ہو رہے ہیں۔چونکہ اس وقت دونوں میدان میں ہیں پس تم کو واجب ہے کہ حق کا ساتھ دو۔حق کی شناخت کے نشان اور میں نے بارہا اس امر کو بیان کیا ہے اور اب پھر بتاتا ہوں کہ حق کی شناخت کے واسطے تین نشان ہیں۔ان پر اگر تم اس کو جسے حق کہا جاتا ہے پَرکھ لو گے تو تم کو شیطان دھوکا نہ دے سکے گا ورنہ اس نے اپنی طرف سے التباس حق و باطل کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔اور وہ نشان یہ ہیں۔اوّل نُصُوصِ صریحہ یعنی جو معتقدات ہم رکھتے ہیں۔دیکھنا چاہیے کہ کیا ان کا نام و نشان خدا تعالیٰ کی کتاب میں بھی پایا جاتا ہے یا نہیں۔اگر اس کے متعلق منقولی شہادت یعنی نصوص صریحہ قطعیہ نہ ہوں تو خود سوچنا چاہیے کہ اس کو کہاں تک وقعت دی جاسکتی ہے مثلاً جیسے