ملفوظات (جلد 2) — Page 451
سوالوں کے جوا ب پر غور کر کے اورجو کچھ ان کے متعلق پوچھنا ہوپوچھ لیں اور جب وہ طے ہوجائیں پھر میںآپ کے اس سوال کا جواب دوںگا۔مگر تداخل کو میںمناسب نہیں سمجھتا جیسے تداخل طعام درست نہیں ہے۔یعنی ایک کھانا کھایا پھر کچھ اور کھا لیا پھر کچھ اور۔اس کا نتیجہ یہی ہو گا کہ سوءِ ہضم ہو کر ہیضہ یا قے یا کسی اور بیماری کی نوبت آئے۔اسی طرح تداخل کلام منع ہے۔تداخل کلام سے کوئی بات محفوظ نہیں رہ سکتی اور انسان اس سے کو ئی فائدہ نہیںاُٹھاسکتا بلکہ وہ وقت بالکل ضائع چلاجاتا ہے۔میری عین مراد یہی ہے کہ یہ سوالات آپ کے باترتیب ہوںاور ہر سوال کی ایک مد رکھی جاوے اور اس کو دوسرا سوال قراردے لیا جاوے۔اس وقت میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ میں خلط مبحث کر کے اپنا وقت ضائع کروں اور آپ کو فائدہ سے محروم رکھوں بلکہ میںچاہتا ہوں کہ آپ کو پورا فائدہ پہنچائوںجو میرے امکان اور طاقت میں ہے اور اس کے لیے میری رائے میں یہی طریق مناسب ہے جو اختیار کیا گیا ہے۔میں اس سوال کا جواب دیتے وقت آپ کو بتائوں گا کہ تحریف کے خیالات شروع میں مسلمانوں سے پیدا نہیں ہوئے بلکہ انجیل کے ماننے والوں ہی کی طرف سے ان خیالات کی ابتدا ہوئی ہے اور میں اس کو جیسا میں نے کہا ہے اور دوسرے وقت پر رکھتا ہوں جب آپ پہلے سوالوں کے جوابات سمجھ لیں گے۔جو لوگ بحث مباحثہ کرنے کے لیے بیٹھے ہیں اور تلاش حق اُن کا مقصد نہیں ہوتا وہ ایک ہی جلسہ میں سب کچھ طے کر لینا چاہتے ہیں۔میں اس کو مذہبی قمار بازی کہتا ہوں جیسے قمار باز اپنی چابک دستی اور چالاکی سے ہاتھ مارنا چاہتے ہیں اسی طرح پر یہ لوگ کرتے ہیں اور ہم نے تجربہ سے دیکھ لیا ہے کہ اصل بات کو چھپاتے ہیں اور فرضی اور خیالی باتیں پیش کرتے ہیں۔پس میں اس کو بہت ہی بُرا سمجھتاہو ں کہ انسان مذہبی قمار بازی کے لیے دست دراز ہو اورخدا کا ذرا بھی خوف اور حیانہ کرکے اپنی چالاکیوں سے کام لے۔یہ مذہبی قماربازی کب ہوتی ہے جب دنیا کی ہار جیت اور خیالی فتح وشکست مدِّنظر ہو اور احباب اور ہم عصروں کی نگاہ میں واہ واہ سننے اور فتح یاب کہلانے کا خیال دل میں ہو۔یہ قمار بازی دنیا کی قماربازی سے بہت ہی بڑھ کر نقصان رساں ہے کیونکہ اس میں تو صرف مال کا زیاں ہے مگر اس قمار بازی میں دین اور دنیا