ملفوظات (جلد 2) — Page 444
اگر کوئی تقویٰ سے کام لے تو وہ سمجھ لے گا کہ تثلیث پر جس قدر زور دیا گیا ہے وہ صریح ظلم ہے۔انسان کی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ کبھی غیر تسلی کی راہ اختیار نہیں کرتا اس لئے پگڈنڈیوں کی بجائے شاہراہ پر چلنے والے سب سے زیادہ ہوتے ہیں اور ا س پر چلنے والوں کے لئے کسی قسم کا خوف و خطرہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس راہ کی شہادت قوی ہوتی ہے۔پس جب دنیا میں یہ ایک روز مشاہدہ میں آئی بات ہے پھر آخرت کی راہ قبول کرنے میں انسان کیوں غیر تسلی کی راہ اختیار کرے جس کے لئے کوئی کافی اور معتبر اور سب سے بڑھ کر زندہ شہادت موجود نہ ہو۔اس وقت دنیا میں ہزاروں راہیں نکالی گئیں ہیں مگر سعید اور مبارک وہی ہے جو دنیا کے لالچوں کو چھوڑ کر محض خدا کے لئے فقر و فاقہ اختیار کر کے خدائی راہ پر چلنے کی تلاش میں نکلے اور جو خلوص نیت سے اسے ڈھونڈتا ہے وہ اس کو پالیتا ہے۔کسر صلیب عیسائی مذہب کے استیصال کے لئے ہمارے پاس تو ایک دریا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ یہ طلسم ٹوٹ جاوے اور وہ بت جو صلیب کا بنایا گیا ہے گر پڑے اور اصل بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر مجھے مبعوث نہ بھی فرماتا تب بھی زمانہ نے ایسے حالات اور اسباب پیدا کر دئیے تھے کہ عیسائیت کا پول کھل جاتا کیونکہ خدا تعالیٰ کی غیرت اور جلال کے یہ صریح خلاف ہے کہ ایک عورت کا بچہ خدا بنایا جاتا جوا نسانی حوائج اور لوازم بشریہ سے کچھ بھی استثناء اپنے اندر نہیں رکھتا۔میں نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں میں نے کامل تحقیقات کے ساتھ یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ بالکل جھوٹ ہے کہ مسیح صلیب پر مَر گیا۔اصل یہ ہے کہ و ہ صلیب پر سے زندہ اتار لیا گیا تھا ا ور وہاں سے بچ کر وہ کشمیر میں چلا آیا جہاں اس نے ایک سو بیس برس کی عمر میں وفات پائی اور اب تک اس کی قبر خانیار کے محلہ میں یوز آسف یا شہزادہ نبی کے نام سے مشہور ہے۔اور یہ بات ایسی نہیں ہے جو محکم اور مستقم دلائل کی بنا پرنہ ہو بلکہ صلیب کے جو واقعات انجیل میں لکھے ہیں خود انہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مَرا۔سب سے اوّل یہ ہے کہ خود مسیح نے