ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 440 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 440

مجھے پادریوںکے سمجھانے اور اُن سے سمجھنے والوںپر سخت افسوس ہے کہ وہ اپنے گھر میں موسیٰ کی لڑائیوں پر توغور نہیںکرتے اور اسلامی جنگوں پر اعتراض شروع کر دیتے ہیں اور سمجھنے والے اپنی سادہ لوحی سے اُسے مان لیتے ہیں۔اگر غور کیا جاوے توموسوی جنگوں کااعتراض حضرت مسیحؑ پر بھی آتاہے کیونکہ وہ توریت کو مانتے تھے اور حضرت موسیٰ کو خدا کا نبی تسلیم کرتے تھے۔اگر وہ اِن جنگوں اور ان بچوں اور عورتوں کے قتل پر راضی نہ تھے تو اُنہوں نے اُسے کیوں مانا۔گویا وہ لڑائیاںخود مسیح نے کیں اور اِن بچوں اور عورتوں کو خود مسیح نے ہی قتل کیا۔اور اصل یہ ہے کہ خود مسیح علیہ السلام کو لڑائیوں کا موقع ہی نہیں ملا ورنہ وہ کم نہ تھے۔انہوںنے تو اپنے شاگردوں کوحکم دیا تھا کہ کپڑے بیچ بیچ کر تلواریںخریدیں۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ اگر قرآن شریف ہماری رہنمائی نہ کرتا تو ان نبیوں پر سے امان اُٹھ جاتا۔قرآن شریف کا احسان ہے تمام نبیوںپر اورمحمدصلی اللہ علیہ وسلم کا احسان ہے کہ انہوں نے آکر ان سب کو اس الزام سے بَری کر دکھایا۔قرآن شریف کو خوب غور سے پڑھو توصاف معلوم ہو جائے گا کہ اس کی یہی تعلیم ہے کہ کسی سے تعرض نہ کرو۔جنہوں نے سبقت نہیںکی اُن سے احسان کرو اور ابتدا کرنے والوں اور ظالموں کے مقابلہ میں بھی دفاع کا لحاظ رکھو۔حد سے نہ بڑھو۔اسلام کی ابتدا میں ایسی مشکلات درپیش تھیں کہ اِن کی نظیر نہیں ملتی۔ایک کے مسلمان ہونے پر مرنے مارنے کو طیار ہو جاتے تھے اور ہزاروں فتنے بپاہوتے تھے اورفتنہ توقتل سے بھی بڑھ کر ہے۔پس امن عامہ کے قیام کے لیے مقابلہ کرنا پڑا۔اگر ہندواس پر اعتراض کرتے تو کچھ تعجب اور افسوس کی جا نہ تھی مگر خودجن کے گھر میں اس سے بڑھ کر اعتراض آتا ہے اُن کواعتراض کرتے ہوئے دیکھ کر تعجب اور افسوس ہوتاہے۔عیسائیوں نے اس قسم کے اعتراض کرنے میں بڑا ظلم کیا ہے۔کیا ان میں ایسا ہی ایمان ہے؟ پھر منجملہ اور جزئیات کے غلامی کے مسئلہ پر اعتراض کرتے ہیں حالانکہ قرآن شریف نے غلاموں کے آزاد کرنے کی تعلیم دی اور تاکید کی ہے اور جو اور کسی کتا ب میں نہیں ہے۔اسی قسم کی جزئیات کو یہ لوگ محل اعترا ض ٹھہر ا کر