ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 439 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 439

تکلیفیں دیکھی تھیں جو پہلے کسی نے نہ دیکھی تھیں۔پھر ان دفاعی جنگوںمیں بھی بچوں کو قتل نہ کر نے، عورتوں اور بوڑھوں کو نہ مارنے، راہبوں سے تعلق نہ رکھنے اور کھیتوں اور ثمر دار درختوں کو نہ جلانے اور عبادت گاہوں کے مسمار نہ کرنے کا حکم دیا جاتا تھا۔اب مقابلہ کر کے دیکھ لو کہ کس کاپلہ بھاری ہے۔غرض یہ بیہودہ اعتراض ہیں۔اگر انسان فطرت سلیمہ رکھتاہو تو وہ مقابلہ کر کے خود حق پاسکتا ہے۔کیا موسیٰ کے زمانہ میں اور خدا تھا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کوئی اور۔اسرائیلی نبیوں کے زمانہ میں جیسے شریر اپنی شرارتوں سے بازنہ آتے تھے۔اس زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں بھی حد سے نکل گئے تھے۔پس اسی خدا نے جو رؤوف و رحیم بھی ہے پھر شریروں کے لیے اس میں غضب بھی (ہے) اُن کواِن جنگوں کے ذریعہ جوخود اُنہوں نے ہی پیدا کی تھیں سزادے دی۔لوطؑ کی قوم سے کیا سلوک ہوا۔نوحؑ کے مخالفوں کا کیا انجام ہوا۔پھر مکّہ والوںکو اگر اس رنگ میں سزا دی تو کیوںاعتراض کرتے ہو۔کیا کوئی عذاب مخصوص ہے کہ طاعون ہی ہو یاپتھر برسائے جائیں۔خداجس طرح چاہے عذاب دے دے۔سنّت قدیمہ اسی طرح پر جاری رہی ہے۔اگر کوئی ناعاقبت اندیش اعتراض کرے تواُسے موسیٰ کے زمانہ اور جنگوں پر اعتراض کا موقع مل سکتا ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کوئی رعایت روانہیں رکھی گئی نبی کریم کے زمانہ پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔آج کل عقل کا زمانہ ہے اور اب یہ اعتراض کوئی وقعت نہیں رکھ سکتے کیو نکہ جب کوئی مذاہب سے الگ ہو کر دیکھے گا تو اُسے صاف نظر آجائے گاکہ اسلامی جنگوں میں اوّل سے آخر تک دفاعی رنگ مقصود ہے اور ہر قسم کی رعائتیں روا رکھی گئی ہیں جو موسٰی اور یشوع کی لڑائیوں میں نہیں ہیں۔ایک آریہ کی کتاب میری نظر سے گزری۔اس نے موسوی لڑائیوں پر بڑے بڑے اعتراض کیے ہیں مگر اسلامی جنگوں پر اسے کوئی موقع نہیں ملا۔مجھ سے جب کوئی آریہ یا ہندو اسلامی جنگوں کی نسبت دریافت کرتا ہے تواُسے میں نرمی اور ملاطفت سے یہی سمجھاتاہوں کہ جو مارے گئے وہ اپنی ہی تلوارسے مارے گئے۔جب اُن کے مظالم کی انتہاہوگئی توآخر اُن کو سزادی گئی اور ان کے حملوںکو روکاگیا۔