ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 436 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 436

الحکم اور حضرت اقدس علیہ السلام کی بعض تحریروں کو پڑھ کر حضرت اقدس کی خدمت میں ایک عریضہ لکھا تھا کہ وہ اسلام کی حقانیت اور صداقت کو عملی رنگ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔اس پر حضرت خلیفۃ اللہ نے ان کو لکھ بھیجا تھا کہ وہ کم از کم دو مہینے تک یہاں قادیان میں آ کر رہیں چنانچہ انہوں نے دارالامان کا قصد کیا اور ۲۲؍دسمبر ۱۹۰۱ء کو بعد دوپہر یہاں آ پہنچے۔پس اس عنوان کے نیچے ہم جو کچھ لکھیں گے سردست انہی کے متعلق ہو گا۔پہلی ملاقات حضرت جر ی اللہ فی حلل الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اعدا کی طبیعت بوجہ کثرت کار جو آج کل حضور رات کے بہت بڑے حصہ تک اس میں مصروف رہتے تھے کیونکہ ایک طرف میگزین کے لئے مضمون ترجمہ کے واسطے دینا تھا دوسری طرف المنار کے لئے موعودہ رسالہ لکھ رہے تھے۔پھر قریباً دو سو سے زائد عظیم الشان نشانوں اور پیشگوئیوں کے نقشہ کی ترتیب کے لئے ان پیشگوئیوں اور نشانوں کو مرتب اور جمع کررہے تھے دو تین روز سے ناساز تھی۔مگر مہمانوں اور اس نووارد حق جُو مہمان کے لئے آج آپ نے سیر کو تشریف لے جانے کا ارشاد فرمایا۔چنانچہ ۹؍بجے کے قریب آپ باہر کو تشریف لے چلے۔باہر نکلتے ہی منشی عبدالحق صاحب عیسائی کو حضور کے سامنے پیش کر دیا گیا او رجو کچھ گفتگو ہوئی اسے ہم ذیل میں درج کرتے ہیں۔حضر ت اقدس۔آپ کو عیسائی ہوئے کتنا عرصہ گزرا اور کیا اسباب پیش آئے تھے جو عیسائی ہوگئے؟ منشی عبدالحق۔مجھے عیسائی ہوئے اس دسمبر میں تین سال ہو جاتے ہیں چونکہ بعض عیسائی میرے دوست تھے اور ان سے میل ملاقات رہتی تھی اور فیروز پور میں پادری نیوٹن صاحب تھے وہ بھی بڑی مہربانی سے پیش آتے تھے یہی اسباب میرے عیسائی ہونے کے ابتدا میں پیدا ہوئے تھے۔حضر ت اقدس۔یہ آپ نے بہت اچھا کیا کہ آپ دو مہینے کے واسطے یہاں آگئے بظاہر یہ بات آپ کی حق جُوئی کی نشانی ہے۔منشی عبدالحق۔جناب میں کالج سے نام کٹوا کر آیا ہوں رخصت نہیں ملتی تھی۔