ملفوظات (جلد 2) — Page 435
بلکہ میرا تو یہ مذہب ہے کہ دشمن کے لئے دعا کرنا یہ بھی سنّت نبوی ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی سے مسلمان ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لئے اکثر دعا کیا کرتے تھے اس لئے بخل کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں کرنی چاہیے اور حقیقۃً موذی نہیں ہونا چاہیے۔شکر کی بات ہے کہ ہمیں اپنا کوئی دشمن نظر نہیں آتا جس کے واسطے دو تین مرتبہ دعا نہ کی ہو ایک بھی ایسا نہیں اور یہی میں تمہیں کہتا ہوں اور سکھاتا ہوں خدا تعالیٰ اس سے کہ کسی کو حقیقی طور پر ایذا پہنچائی جاوے اور ناحق بخل کی راہ سے دشمنی کی جاوے ایسا ہی بیزار ہے جیسے وہ نہیں چاہتا کہ کوئی اس کے ساتھ ملایا جاوے۔ایک جگہ وہ فصل نہیں چاہتا اور ایک جگہ وصل نہیں چاہتا یعنی بنی نوع کا باہمی فصل اور اپنا کسی غیر کے ساتھ وصل اور یہ وہی راہ ہے کہ منکروں کے واسطے بھی دعا کی جاوے اس سے سینہ صاف اور انشراح پیدا ہوتا ہے اور ہمت بلند ہوتی ہے اس لئے جب تک ہماری جماعت یہ رنگ اختیارنہیں کرتی اس میں اور اس کے غیر میں پھر کوئی امتیاز نہیں ہے۔میرے نزدیک یہ ضروری امر ہے کہ جو شخص ایک کے ساتھ دین کی راہ سے دوستی کرتا ہے اور اس کے عزیزوں سے کوئی ادنیٰ درجہ کاہے تو اس کے ساتھ نہایت رفق اور ملائمت سے پیش آنا چاہیے اور ان سے محبت کرنی چاہیے کیونکہ خدا کی یہ شان ہے۔ع بداں را بہ نیکاں ببخشد کریم پس جو تم میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو تمہیں چاہیے کہ تم ایسی قوم بنو جس کی نسبت آیا ہے فَإِنَّـھُمْ قَوْمٌ لَّا یَشْقٰی جَلِیْسُہُمْ یعنی وہ ایسی قوم ہے کہ ان کا ہم جلیس بدبخت نہیں ہوتا۔یہ خلاصہ ہے الٰہی تعلیم کا جو تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ میں پیش کی گئی ہے۔۱ ۲۲؍ دسمبر ۱۹۰۱ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک عیسائی حق جُو کی گفتگو منشی عبدالحق صاحب قصوری طالب علم بی۔اے کلاس لاہور نے جو عرصہ تین سال سے عیسائی تھے