ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 424 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 424

وہ تاثیر تھی کہ جو سنتاتھاوہ گرویدہ ہو جاتاتھا۔جن لوگوںکوآپ نے کھینچا ان کوپاک صاف کر دیا۔اور اس کے ساتھ ہی آپ کی تعلیم ایسی سادہ اور صاف تھی کہ اس میں کسی قسم کے گورکھ دھندے اور معمّے تثلیث کی طرح نہیں ہیں۔چنانچہ نیپولین کی بابت لکھا ہے کہ وہ مسلمان تھا اور کہا کرتا تھا کہ اسلام بہت ہی سیدھا سادہ مذہب ہے اس نے تثلیث کی تکذیب کی ہے غرض آپ وہ دین لائےجو سیدھا سادہ ہے جو خداکے سامنے یا انسان کے سامنے شرمندہ نہیں ہوسکتا۔قانون قدرت اور فطرت کے ساتھ ایساوابستہ ہے کہ ایک جنگلی بھی آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے۔تثلیث کی طرح کوئی لا ینحل عقدہ اس میں نہیں جس کو نہ خدا سمجھ سکے اور نہ ماننے والے جیساکہ عیسائی کہتے ہیں۔تثلیث قبول کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے بت پرستی اور اوہام پرستی کرے اور عقل وفکر کی قوتوں کوبالکل بیکار اور معطل چھوڑ دے۔حالانکہ اسلام کی توحید ایسی ہے کہ ایک دنیا سے الگ تھلگ جزیرہ میںبھی وہ سمجھ میں آسکتی ہے۔یہ دین عیسائی جو پیش کرتے ہیں یہ عالم گیر اورمکمل دین نہیں ہو سکتا اور نہ انسان اس سے کوئی تسلی یا اطمینان پاسکتاہے مگر اسلام ایک ایسا دین ہے جو کیا بااعتبار توحید اور اعمال حسنہ اور کیا تکمیلِ مسائل سب سے بڑھ کر ہے۔ہزاروں قسم کی بد کا ریاں یہودیوں میں جو مو سیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھے پائی جاتی ہیںاور مسیح کے حواریوں کا ذکربھی کر نا نہیں چاہیے کہ جن میں سے ایک نے چند کھوٹے درہم لے کر اپنے آقا کو پکڑا دیا اور ایک نے لعنت کی اور کسی نے بھی وفاداری کا نمونہ نہ دکھایا لیکن صحابہ کی حالت کو دیکھتے ہیں تو ان میں کوئی جھوٹ بولنے والا بھی نظر نہیںآتا۔ان کے تصور میں بھی بجُزروشنی کے کچھ نظر نہیںآتا حالانکہ جب عرب کی ابتدائی حالت پر نگاہ کرتے ہیں تو وہ تحت الثریٰ میں پڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔بت پرستی میں منہمک تھے یتیموںکا مال کھانے اور ہر قسم کی بدکاریوں میں دلیر اور بے باک تھے۔ڈاکوؤں کی طرح گزارا کرتے تھے۔گویا سر سے پیرتک نجاست میں غرق تھے۔پھر میں پوچھتاہوںکہ وہ کون ساعظیم الشان اسم اعظم تھا جس نے اُن کی جھٹ پٹ کایا پلٹ دی اور ان کو ایسا نمونہ بنا دیا کہ جس کی نظیر دنیا کی قوموں میں ہر گزنہیں ملتی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اگر اور کوئی بھی معجزہ پیش نہ کریں تو اس حیرت انگیز پاک تبدیلی کے مقابلہ میں کسی خودساختہ خدا کا ہی