ملفوظات (جلد 2) — Page 37
فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ( الـحج : ۳۱ ) پس ہر ایک انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ مدعی کے استقلال اور ثابت قدمی کو دیکھے۔ہماری جماعت کے لئے جو ہم توقع کر سکتے ہیں اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے وَ جَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ( اٰلِ عـمران : ۵۶ ) اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہوتے ہیں اور ان میں تخلّف نہیں ہوتا اس لئے کوشش کرو کہ تم سب ان وعدوں سے حصہ لینے والے ٹھیرو۔یہاں اللہ تعالیٰ ایک کُشتی کا طریق بتاتا ہے۔فَوْق سے گرانا ہی مقصود ہے ورنہ اس سے یہ تو مراد نہیں ہے کہ جسم وزنی اور بھاری ہوجائیں گے اور پھر یہاں اس سلسلہ کے لئے لڑائی بھی نہیں ہے کیونکہ یَضَعُ الْـحَرْبَ کا ارشاد ہے پس فوقیت سے مراد روحانی صدق ہے اور اس کے ثمرات، علوم، معارف، نکات، مکنونات اور اللہ تعالیٰ سے قریب ہونا اور ان تعلقات سے علوم جدیدہ کا پیدا ہونا مراد ہے۔مخالفوں کا پانی آسمانی نہیں ہے۔اس کو فَوْق سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لئے وہ جلد گندہ اور ناپاک ہوجاتا ہے مگر مسیح موعود کے متبعین کا فوق یعنی آسمان سے تعلق ہے جو ہمیشہ تازہ علوم اور جدید معارف پاتے رہیں گے۔اور جیسا کہ قاعدہ ہے کہ جب تک آسمانی پانی نہ آئے زمینی پانی خشک ہوجاتا ہے یا ناپاک اور سَمّی مواد پیدا کرنے والا ہوجاتا ہے۔اس کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہی قانون مقرر کیا ہے کہ آسمان سے سال میں ایک بار یا دو بار برسات ہوتی ہے اور وہ ان تمام گندی اور ناپاک ہواؤں کو اور مواد فاسدہ کو صاف کر دیتی ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ کے تجدید کے قانون کو مخفی رکھا ہے اور صاف ثابت ہوتا ہے کہ روحانی اور جسمانی تجدید کا سلسلہ کیسے چلتا ہے۔یہ حدیث کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدّد تجدید دین کے لئے آتا ہے مخالفوں کے نزدیک کیسی ہی ہو مگر ہم کہتے ہیںکہ جب قانون قدرت میں اس کی تصریح موجود ہے تو پھر اس سے انکار کے کیا معنے؟ ہر چیز تجدید کی محتاج ہے۔پس نئی صدی بھی حق رکھتی ہے کہ نئے اہل دل پیدا کرے جو حکمت اور صداقت کی تخم ریزی کریں۔بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى ( القصص : ۴۴ ) تجدید ہی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔جیسا گزشتہ زمانہ میں مجدّدوں کی ضرورت تھی دنیا قیامت تک اسی طرح مجدّدوں کی محتاج ہے۔انبیاء علیہم السلام محدود