ملفوظات (جلد 2) — Page 36
نے طیار کی تھی۔اور چونکہ جماعت کی ترقی ایسے ہی لوگوں کے نمونوں سے ہوتی ہے اس لئے تم جو مسیح موعود کی جماعت کہلا کر صحابہؓ کی جماعت سے ملنے کی آرزو رکھتے ہو اپنے اندر صحابہؓ کا رنگ پیدا کرو۔اطاعت ہو تو ویسی ہو۔باہم محبت اور اخوت ہو تو ویسی ہو۔غرض ہر رنگ میں، ہر صورت میں تم وہی شکل اختیار کرو جو صحابہؓ کی تھی۔جو لوگ ہمارے مخالف ہو کر ہم کو گالیاں دیتے ہیں اور دجال اور کافر کہتے ہیں ہم اس کی ذرا بھی پروا نہیں کرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک آدمی کو نور فطرت اور قوت فیصلہ عطا کی ہے۔پاخانہ جو آدمی کے اندر سے نکلتا ہے اس کی بد بو خود بھی وہ محسوس کرتا ہے۔پس جب کہ یہ ایک مانی ہوئی بات ہے اور پکا قاعدہ ہے پھر جھوٹ جو اس پاخانہ سے بھی بڑھ کر بد بو رکھتا ہے کیا اس کی بد بو جھوٹ بولنے والے کو نہیں آتی؟ ضرور آتی ہے۔پھر میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایک مفتری علی اللہ اس قدر قوت اور استقلال کے ساتھ اپنے دعوے کو پیش کرے جو ہمیشہ صادق کا خاصہ ہے۔پھر ان کی پیش رفت کیوں کر جاسکتی ہے اور وہ میرا کیا بگاڑ سکتے ہیں؟ اگر میں خدا کی طرف سے نہ آیا ہوتا اور اس نے ہی مجھے مامور نہ کیا ہوتا تو تم ہی بتاؤ کہ اس قدر گالیاں اور اس قدر شورو شر اور مخالفت یہاں تک کہ قتل کے فتوے، قتل عمد کے مقدمے جو میرے خلاف بنائے گئے ان مصیبتوں اور بلاؤں کو اپنے اوپر لینے کی کس کو ضرورت ہو سکتی ہے؟ کبھی کوئی برداشت نہیں کرتا کہ اس قسم کے گند سے بھرے ہوئے اشتہار اور گالیوں کے خطوط جو بھیجے جاتے ہیں سنا کرے۔مگر میں سچ کہتا ہوں کہ یہ میرے اختیار کی بات نہیں ہے۔خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے چونکہ اس نے خود ہی اس سلسلہ کی بنیاد رکھی ہے۔اس نے ہی وہ قوت قلب کو عطا کی ہے کہ یہ ساری مصیبتیں اور مشکلات میرے سامنے کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتی ہیں اور مجھے تو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ کس کو کہتے ہیں۔پس تم خود ہی سوچ کر دیکھو کہ یہ شوکت، یہ قوت، یہ استقلال مفتری کو مل سکتا ہے؟ میں تو کبھی یقین نہیں کرتا کہ مفتری ہو اور ایسی قوت پالے۔جو آدمی خون کرتا ہے صدق اس کو ملزم کرتا ہے۔آخر وہ خود ہی عدالت میں جا کر اقرار کر لیتا ہے۔اس میں یہی سِرّ ہے کہ اس میں وہ قوت نہیں ہوتی جو ایک صادق کو عطا ہوتی ہے۔جھوٹ انسان کو بزدل اور کمزور بنا دیتا ہے۔اس لئے خدا نے فرمایا ہے