ملفوظات (جلد 2) — Page 411
اسی گورنمنٹ کے حُسنِ انتظام اور امن کی وجہ سے۔پھر خدا نے یہ بھی ارادہ فرمایا ہوا تھا کہ اس زمانہ میں حقائق معارف جمع کر دے۔میں دیکھتا ہوں کہ جیسے ظہر و عصر جمع ہوئے ہیں کہ ظہر آسمان کے جلالی رنگ کا ظلّ ہے اور عصر جمالی رنگ کا اور خدا تعالیٰ دونوں کا اجتماع چاہتا ہے اور چونکہ میرا نام اس نے آدم بھی رکھا ہے اور آدم کے لئے یہ بھی فرمایا کہ اس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے یعنی جلالی اور جمالی رنگ دونوں اس میں رکھے اس لئے اس جگہ بھی جلال اور جمال کا اجتماع کر کے دکھایا۔جلالی رنگ میں طاعون وغیرہ اللہ تعالیٰ کی گرفتیں ہیں اور انہیں سب دیکھتے ہیں اور جمالی رنگ ميں اس کے انعامات اور مبشرانہ وعدے ہیں اور پھر میری دانست میں اللہ تعالیٰ نے میرے سا تھ ایک اور جمع کی خبر بھی رکھی ہے جس کی خدا نے مجھے اطلاع دی اور وہ یہ ہے کہ میری پیدائش میں میرے ساتھ ایک لڑکی بھی اس نے رکھی ہے اور پھر قومیت اور نسب میں بھی ایک جمع رکھی اور وہ یہ کہ ہماری ایک دادی سیدہ تھی اور دادا صاحب اہل فارس تھے۔اب بھی خدا نے اس قسم کی جمع ہمارے گھر میں رکھی کہ ایک صحیح النسب سیدہ میرے نکاح میں آئی اسی طرح جیسے خدا نے ایک عرصہ پہلے بشارت دی تھی۔اب غور تو کرو کہ خدا نے کس قدر اجتماع یہاں رکھے ہوئے ہیں ان تمام جمعوں کو خدا نے مصلحت عظیمہ کے لئے جمع کیا ہے۔مسیح موعود ہی حکم عدل ہے ہماری جماعت کے لئے تو یہ امر دور از ادب ہے کہ وہ اس قسم کی باتیں پیش کریں یا ان کے وہم میں بھی ایسی باتیں آئیں۔اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں جو کرتا ہوں وہ خدا تعالیٰ کی تفہیم اور اشارہ سے کرتا ہوں پھر کیوں اس کو مقدم نہیں کرتے اور پیشگوئی سمجھ کر اس کی عزّت نہیں کرتے جیسے حضرت عمرؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی سمجھ کر ایک صحابی کو سونے کے کڑے پہنا دئیے۔اب تم بتائو کہ اور کیا چاہتے ہو۔خدا نے اس قدر نشان تمہارے لئے جمع کر دیئے ہیں اگر خدا تعالیٰ پر ایمان ہو تو کوئی وہم اور خیال اس قسم کا پیدا نہیں ہو سکتا جس سے اعتراض کا رنگ پایا جاوے اور اگر اس قدر نشان دیکھتے ہو ئے بھی کوئی اعتراض