ملفوظات (جلد 2) — Page 404
۳؍دسمبر ۱۹۰۱ء جمع بین الصلوٰتین کے متعلق حضرت حجۃ اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک تقریر جو آپ نے ۳؍دسمبر ۱۹۰۱ء کو بعد نماز مغرب مسجد مبارک میں فرمائی۔جمع بین الصلوٰتین مہدی کی علامت سب صاحبوں کو معلوم ہو کہ ایک مدت سے خدا جانے قریباًچھ ماہ یا کم و بیش عرصہ سے ظہر اور عصر کی نماز جمع کی جاتی ہے۔میں اس کو مانتا ہوں کہ ایک عرصہ سے جو مسلسل نماز جمع کی جاتی ہے ایک نو وارد یا نو مرید کو جس کو ہمارے اغراض و مقاصد کی کوئی خبر نہیں ہے یہ شبہ گزرتا ہو گا کہ کاہلی کے سبب سے نماز جمع کر لیتے ہوں گے جیسے بعض غیر مقلّد ذرا اَبر ہوا یا کسی عدالت میں جانا ہوا تو نماز جمع کر لیتے ہیں اور بلا مطر اور بلا عذربھی نماز جمع کرنا جائز سمجھتے ہیں مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم کو اس جھگڑے کی ضرورت اور حاجت نہیں اور نہ ہم اس میں پڑنا چاہتے ہیں کیونکہ میں طبعاً اور فطرتاً اس کو پسند کرتا ہوں کہ نماز اپنے وقت پر ادا کی جاوے اور نماز موقوتہ کے مسئلہ کو بہت ہی عزیز رکھتا ہوں بلکہ سخت مطر میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ نماز اپنے وقت پر ادا کی جاوے اگرچہ شیعوں نے اور غیر مقلّدوں نے اس پر بڑے بڑے مباحثے کئے ہیں مگر ہم کو ان سے کوئی غرض نہیں وہ صرف نفس کی کاہلی سے کام لیتے ہیں سہل حدیثوں کو اپنے مفید مطلب پا کر ان سے کام لیتے ہیں او رمشکل کوموضوع اور مجروح ٹھہراتے ہیں ہمارا یہ مدعا نہیں بلکہ ہمارا مسلک ہمیشہ حدیث کے متعلق یہی رہا ہے کہ جو قرآن اور سنّت کے مخالف نہ ہو وہ اگر ضعیف بھی ہو تب بھی اس پر عمل کر لینا چاہیے۔اس وقت جو ہم نمازیں جمع کرتے ہیں تو اصل بات یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی تفہیم، القا اور الہام کے بِدُوں نہیں کرتا بعض امور ایسے ہوتے ہیں کہ میں ظاہر نہیں کرتا مگر اکثر ظاہر ہوتے ہیں۔جہاں تک خدا تعالیٰ نے مجھ پر اس جمع بین الصلوٰتین کے متعلق ظاہر کیا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے تُـجْمَعُ لَہُ الصَّلٰوۃُ کی بھی عظیم الشان پیشگوئی کی تھی جو اب پوری ہو رہی ہے۔میرا یہ