ملفوظات (جلد 2) — Page 398
یہ نقص ٹھہراتا ہے کہ وہ کلام نہیں کرتے مگر ہم یہ ثابت کرنے کو تیار ہیںاور اسی غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع کے آثار اور ثمرات ہر وقت پائے جاتے ہیں۔اس وقت بھی وہ خدا جو ہمیشہ سے ناطق خدا ہے اپنا لذیذ کلام دنیا کی ہدایت کے لئے بھیجتا ہے اور قرآن شریف کے اعجاز کا ثبوت اس وقت بھی دے رہا ہے۔یہ قرآن شریف ہی کا معجزہ ہے کہ جو ہم تحدی کر رہے ہیں کہ ہمارے بالمقابل قرآن شریف کے حقائق، معارف عربی زبان میں لکھو اور کسی کو یہ قدرت نہیں ہوتی کہ مقابلہ کے لئے نکل سکے۔ہمارا مقابلہ دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ ہے کیونکہ وَاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ( الـجمعۃ:۴) جو فرمایا گیا ہے اس وقت جو تعلیم الکتب والحکمت ہو رہی ہے اور ایک قوم کو اس وقت بھی صحابہ کی طرح اللہ تعالیٰ بنا نا چاہتا ہے اس کی اصلی غرض یہی ہے کہ تا قرآ ن شریف کا معجزہ ثابت ہو۔قرآن مجید بے مثل معجزہ ہے ماحصل یہ ہے کہ قرآن شریف ایسا معجزہ ہے کہ نہ وہ اوّل مثل ہوا اور نہ آخر کبھی ہو گا۔اس کے فیوض و برکات کا دَر ہمیشہ جاری ہے اور وہ ہر زمانہ میں اس طرح نمایاں اور درخشاں ہے جیسا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تھا علاوہ اس کے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر شخص کا کلام اس کی ہمت کے موافق ہوتا ہے جس قدر اس کی ہمت او رعزم اور مقاصد عالی ہوں گے اسی پایہ کا وہ کلام ہو گااور وحی الٰہی میں بھی یہی رنگ ہوتا ہے جس شخص کی طرف اس کی وحی آتی ہے جس قدر ہمت بلند رکھنے والا وہ ہو گا اسی پایہ کا کلام اسے ملے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت و استعداد اور عزم کا دائرہ چونکہ بہت ہی وسیع تھا اس لئے آپ کو جو کلام ملا وہ بھی اس پایہ اور رتبہ کا ہے اور دوسرا کوئی شخص اس ہمت اور حوصلہ کا کبھی پیدا نہ ہوگا کیونکہ آپ کی دعوت کسی محدود وقت یا مخصوص قوم کے لئے نہ تھی۔جیسے آپ سے پہلے نبیوں کی ہوتی تھی بلکہ آپ کے لئے فرمایا گیا قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا ( الاعراف:۱۵۹) اور مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ ( الانبیاء :۱۰۸) جس شخص کی بعثت اور رسالت کا دائرہ اس قدر وسیع ہو اس کا مقابلہ کون کر سکتا ہے۔اس وقت اگر کسی کو قرآن شریف کی کوئی آیت بھی الہام ہو تو