ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 399 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 399

ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ اس کے اس الہام میں اس کا اتنا دائرہ وسیع نہیںہوگا جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا اور ہے۔یہی وجہ ہے کہ خواب کی تعبیر میں معبرین نے یہ اصول رکھا ہے کہ وہ ہر شخص کی حیثیت اور حالت کے لحاظ سے ہوتی ہے۔اگر کوئی آدمی غریب ہے تو اس کی خواب اس کی ہمت اور مقاصد کے اندر ہو گی امیر کی اپنے رنگ کی اور بادشاہ کی اپنے رتبہ کی۔کوئی غریب اگر مثلاً یہ دیکھے کہ اس کے سر میں خارش ہوتی ہے تو اس سے یہ مراد تو ہونے سے رہی کہ اس کے سر پر تاج شاہی رکھا جاوے گا بلکہ اس کے لئے تو یہی مراد ہوگی کہ وہ کسی سے جوتے کھائے گا جیسے استعدادوں کے دائرے مختلف ہیں اسی طرح پر کلام الٰہی کے دوائر بھی مختلف ہیں۔علاوہ ازیں خدا تعالیٰ کے کلام میں اور بھی بہت سے پہلو بے مثلی کےہوتے ہیں وہ اس پہلو سے بےمثل نہیں ہوتا جس پہلو سے ہم خیال کرتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کا کلام بدوں تدبر کے وحی ہے مگر ہمارا کلام بعض بعض اوقات تدبر کا نتیجہ ہوتا ہے اور ہم اس میں اصلاح بھی کر دیتے ہیں ہر ایک چیز نسبتاً بے نظیری پیدا کرتی ہے۔دو مرغ ہوں تو ایک اس کے مقابلہ میں اور اس کی نسبت سے بے نظیر کہلا سکتا ہے لیکن ہاتھی کے مقابلہ میں تو اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں قرار پا سکتی۔اسی طرح پر کرامات کا سلسلہ اللہ تعالیٰ نے جب کہ رکھا ہوا ہے پھر کیا وجہ ہے کہ کلام کا اعجاز نہ رکھا جاوے جیسے ہر زمانہ میں کرامات ہوتی رہی ہیں اسی طرح پر اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے اعجازی کلام کے ثبوت کے لئے کلام کا معجزہ بھی رکھا ہے جیسے حضرت سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی دو چند سطریں معجزہ تھیں۔اس زمانہ (میں) بھی قرآن شریف کے کلام کے اعجاز کے لئے مسیح موعود کو کلام کا معجزہ دیا گیا ہے اسی طرح پر جیسے دوسرے خوارق اور نشانات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات اور خوارق کے ثبوت کے لئے دیئے گئے ہیں۔جس جس قسم کے نشانات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے تھے اسی رنگ پر اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے نشانات کو رکھا ہے کیونکہ یہ سلسلہ اسی نقش قدم پر ہے اور دراصل وہی سلسلہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بروزی آمد کی پہلے ہی سے پیشگوئی ہو چکی تھی اور اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ(الـجمعۃ:۴) میں یہ وعدہ کیا گیا تھا پس جیسے آپ کو اس وقت کلام کا معجزہ اور نشان اس