ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 387 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 387

سلسلہ کی اور اس وقت کے آثار و علامات کی پیشگوئیاں کیسی عظیم الشان اور لا نظیر ہیں۔دنیا کی کسی کتاب کی پیشگوئیوں کو پیش کرو کیا مسیح کی پیشگوئیاں ان کا مقابلہ کر سکتی ہیں جہاں صرف اتنا ہی ہے کہ زلزلے آئیں گے قحط پڑیں گے آندھیاں آئیں گی مرغ بانگ دے گا وغیرہ وغیرہ۔اس قسم کی معمولی باتیں تو ہر ایک شخص کہہ سکتا ہے اور یہ حوادثات ہمیشہ ہی ہوتے رہتے ہیں پھر اس میں غیب گوئی کی قوت کہاں سے ثابت ہو۔اس کے مقابلہ میں قرآن شریف کی پیشگوئی دیکھو الٓمّٓ۔غُلِبَتِ الرُّوْمُ۔فِيْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ۔فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَيَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ ( الرّوم:۲تا۵) میں اللہ بہت جاننے والا ہوں۔رومی اپنی سرحد میں اہل فارس سے مغلوب ہو گئے ہیں اور بہت ہی جلد چند سال میں یقیناً غالب ہونے والے ہیں پہلے اور آئندہ آنے والے واقعات کا علم اور ان کے اسباب اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں جس دن رومی غالب ہوں گے وہی دن ہوگا جب مومن بھی خوشی کریں گے۔اب غور کرکے دیکھو کہ یہ کیسی حیرت انگیز اور جلیل القدر پیشگوئی ہے ایسے وقت میں یہ پیشگوئی کی گئی جب مسلمانوں کی کمزوراور ضعیف حالت خود خطرہ میں تھی نہ کوئی سامان تھا نہ طاقت تھی ایسی حالت میں مخالف کہتے تھے کہ یہ گروہ بہت جلد نیست و نابود ہو جائے گا مدت کی قید بھی اس میں لگا دی اور پھر يَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ کہہ کر دوہری پیشگوئی بنادی یعنی جس روز رومی فارسیوں پر غالب آئیں گے اسی دن مسلمان بھی بامراد ہو کر خوش ہوں گے۔چنانچہ جس طرح پر یہ پیشگوئی کی تھی اسی طرح بدر کے روز یہ پوری ہو گئی ادھر رومی غالب ہوئے اور ادھر مسلمانوں کو فتح ہوئی۔اسی طرح سورۂ یوسف میں اٰيٰتٌ لِّلسَّآىِٕلِيْنَ کہہ کر اس سارے قصہ کوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بطور پیشگوئی بیان فرمایا ہے۔غرض جہاں تک دیکھا جاوے قرآن شریف کی پیشگوئیاں بڑے اعلیٰ درجہ پر واقع ہوئی ہیں اور کوئی کتاب اس رنگ میں ان پیشگوئیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی کیونکہ یہ پیشگوئیاں یہی نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں پوری ہو گئی تھیں بلکہ ان کاسلسلہ برابرجاری ہے چنانچہ بہت سی